جموں ضلع میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتعال انگیز، فرقہ وارانہ اور گمراہ کن مواد کی اشاعت، شیئرنگ اور ترسیل پر 60 دن کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر راکیش منہاس نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023 کی دفعہ 163 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ حکم نامے کے مطابق کسی بھی ایسے مواد — چاہے وہ متن، تصویر، ویڈیو، آڈیو، میم، گرافک یا ریل کی صورت میں ہو — کو پوسٹ، اپلوڈ، شیئر یا فارورڈ کرنا سختی سے ممنوع ہوگا جو مذہب، ذات، نسل، زبان، علاقے یا برادری کی بنیاد پر نفرت، دشمنی یا بدامنی کو فروغ دے۔
انتظامیہ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ حالیہ دنوں میں واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرتے ہوئے جھوٹی، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ مواد پھیلایا جا رہا ہے، جس سے عوامی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔حکم کے مطابق جعلی خبروں، ایڈیٹ شدہ ویڈیوز، مورفڈ تصاویر اور غیر مصدقہ افواہوں کی ترسیل پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے بائیکاٹ کی اپیل کرنا، دھمکیاں دینا، تشدد پر اکسانا، غیر قانونی اجتماعات کی تنظیم کرنا یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا مواد پھیلانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ضلعی مجسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا 2023 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی مختلف دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مجرموں کو ایک سال سے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ سنگین معاملات میں عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔
شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیز یا مشتبہ مواد کو آگے بڑھانے کے بجائے فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا سائبر کرائم یونٹ کو اطلاع دیں۔ سوشل میڈیا گروپس کے ایڈمنسٹریٹرز اور موڈریٹرز کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ممنوعہ مواد پھیلایا گیا تو انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
حکم کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جموں کو اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ سائبر کرائم یونٹ کی جانب سے 24 گھنٹے نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا اور سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیلز بھی فعال رہیں گے۔
یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں اور اگلے 60 دن تک ضلع جموں میں لاگو رہیں گی، جب تک کہ انہیں قبل از وقت تبدیل یا ختم نہ کیا جائے۔