جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کےلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے "نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان" کے تحت 100 روزہ خصوصی مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔سرکاری ترجمان کے مطابق اس مہم کا مقصد یونین ٹیریٹری سے منشیات کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس دوران عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامز منعقد کیے جائیں گے۔
11 اپریل سے پدیاترا
لیفٹیننٹ گورنر 11 اپریل کو جموں کے ایم اے اسٹیڈیم سے ایک بڑی "پدیاترا" کا آغاز کریں گے، جبکہ مئی کے پہلے ہفتے میں سری نگر میں بھی اسی طرح کی ایک بڑی مہم شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ کٹھوعہ اور راجوری میں بھی پدیاترا میں شرکت کریں گے۔
منشیات کی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی سازش
اجلاس کے دوران منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے سے تعاون کی اپیل کی۔
نیٹ ورکس کو سختی سے ختم کرنے کی ہدایت
انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے مسلسل اور سخت کارروائیاں کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "بے گناہوں کو نہ چھیڑا جائے اور مجرموں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے"۔لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ اصل متاثرین کی نشاندہی کر کے ان کی مدد کی جانی چاہیے۔
اجلاس میں طے کیا گیا ایکشن پلان
اجلاس میں مختلف سرگرمیوں اور محکموں کے تحت ایک تفصیلی ایکشن پلان بھی تیار کیا گیا۔ مہم کے مؤثر نفاذ کے لیے یونین ٹیریٹری اور ڈویژنل سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
اس مہم کو عوامی تحریک بنانے کی اپیل
انہوں نے اس مہم کو عوامی تحریک بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی تجاویز اور آراء کو بھی شامل کیا جائے تاکہ اس اقدام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی شہریوں کو منشیات سے متعلق معاملات کی اطلاع دینے کی بھی ترغیب دی گئی۔ یہ اجلاس چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، اسپیشل ڈی جی ایس جے ایم گلانی، پرنسپل سیکریٹری ہوم چندرکر بھارتی اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں منعقد ہوا۔