جنتر منتر پراحتجاج کے دوران سی جے پی کارکن کے والد پر مبینہ حملے کے معاملے میں گرفتار سواتنتر بھاردواج نے باقاعدہ ضمانت کے لیے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ان کی ضمانت کی درخواست پر عدالت آج سماعت کرے گی۔ بھاردواج اس وقت عدالتی حراست میں ہیں اور عدالت نے ان کے ریمانڈ میں 21 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سواتنتر بھاردواج کو 4 ستمبر کو بلند شہر سے حراست میں لیا تھا۔ بعد میں انہیں دہلی لایا گیا اور گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔
بھاردواج کی جانب سے ایڈووکیٹ اومیش چندر شرما نے ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس معاملے سے متعلق تمام ایف آئی آر کو خارج کر چکی ہے، جبکہ موجودہ ایف آئی آر 23 جون کو درج کی گئی تھی۔ درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ 3 ستمبر کو کچھ سیاسی رہنماؤں کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد پولیس نے سواتنتر بھاردواج کو اس معاملے میں مبینہ طور پر پھنسانے کی کوششیں شروع کیں۔
دفاع کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ مقدمے کے حالات اور سابقہ عدالتی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے بھاردواج کو ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاہم، اس معاملے میں عدالت کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ فی الحال بھاردواج عدالتی حراست میں ہیں اور ان کے ریمانڈ میں 21 ستمبر تک توسیع ہوچکی ہے۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ انہیں ضمانت ملتی ہے یا عدالتی حراست مزید برقرار رہتی ہے۔