اسرائیل اورلبنان نے جنگ بندی کی تجدید اور جنوبی لبنان میں کئی پائلٹ سیکورٹی زون قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جہاں حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کو کام کرنے سےروکا کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا اعلان محکمہ خارجہ میں امریکی ثالثی میں ہوئی بات چیت کے چوتھے دور کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کے حملوں کو مکمل طور پر روکنے اور دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقوں سے حزب اللہ کے تمام اہلکاروں کے انخلاء پر ہے۔
جنگ بندی کی شرائط
سیکیورٹی زونز کو کس طرح نافذ کیا جائے گا اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ تاہم معاہدے کے تحت لبنانی مسلح افواج ان علاقوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ اقدامات ایک جامع امن اور سلامتی کے معاہدے کی جانب پیش رفت کو ممکن بنائیں گے۔"
حزب اللہ نےاسرائیل کے مطالبہ کوکیا مسترد
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مستقبل کے تعلقات کا تعین صرف ان کی خودمختار حکومتوں کو کرنا چاہیے، لبنان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی رول کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ اس تبصرہ کا مقصد ایران کی طرف تھا، جو حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے اور اس نے دلیل دی ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا خاتمہ علاقائی سلامتی کے معاملات پر امریکہ کے ساتھ وسیع تر مفاہمت کا حصہ بننا چاہیے۔حزب اللہ اسرائیل لبنان مذاکرات میں شامل نہیں رہا۔ حزب اللہ ان مذاکرات اور اسرائیل کی جانب سے مطالبہ کیے جانے والے اس کے غیر مسلح ہونے کے مطالبے کو مسترد کرتا ہے۔
مارکو روبیو کا بیان
واشنگٹن میں منگل اور بدھ کو امریکی حکام کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا چوتھا دور منعقد ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ میں ایک اور سماعت کے دوران کہا تھا کہ اگر حزب اللہ رکاوٹ نہ بنےتو لبنان اور اسرائیل کل ہی امن معاہدہ کر سکتے تھے۔
ایران مذاکرات پر جنگ بندی کا اثر
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل-لبنان کی جنگ بندی کو ایران کے ساتھ وسیع تر مذاکرات کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
معاہدے سے قبل ایرانی حکام اور حکومت کے قریبی میڈیا کا کہنا تھا کہ تہران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے اس لیے معطل کر دیے تھے کیونکہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے اصرار کیا کہ کسی بھی وسیع جنگ بندی کے انتظامات میں لبنان کو شامل کرنا ہوگا اور بات چیت جاری رکھنے سے پہلے وہاں اسرائیلی حملوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔
فارس اور تسنیم، ایران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹیں، اس وقت سامنے آتی ہیں جب تہران یہ بحث جاری رکھے ہوئے ہے کہ لبنان میں تنازعہ علاقائی جنگ پر امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے وسیع تر مذاکرات سے منسلک ہے۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ کا موقف ہے کہ لبنان میں لڑائی ایران سے متعلق بات چیت سے الگ ہے۔
یہ معاہدہ ایران کے لیے ثالثوں کے ساتھ دوبارہ مشغول ہونے اور امریکہ کے ساتھ وسیع تر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ تہران باضابطہ طور پر مذاکراتی عمل میں واپس آگیا ہے۔ ایرانی حکام نے اپنی شرکت کو لبنان میں جنگ بندی کے حقیقی نفاذ سے جوڑا، محض اعلان سے نہیں ۔