Wednesday, July 08, 2026 | 21 محرم 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہندوارکان کو شامل کرنےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ میں چیلنج

مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہندوارکان کو شامل کرنےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ میں چیلنج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 08, 2026 IST

مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہندوارکان کو شامل کرنےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ میں چیلنج
 مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے وقف بورڈ میں دو غیرمسلم ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔ کانگریس نے ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل نو کے فیصلے اور  بورڈ میں غیرمسلم ارکان کو شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے اس اقدام کو قانونی طور پر قابل اعتراض قراردیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی، جب کہ بی جے پی نے تقرریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کا کردار مذہبی اداروں سے بڑھ کر ہے۔

 وقف بورڈ چیرمین سمیت دوہندو ارکان

وزیر اعلی موہن یادو نے اتوار کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت 10 رکنی مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی تنظیم نو کا اعلان کیا۔ نو تشکیل شدہ ادارہ ملک کا پہلا ریاستی سطح کا وقف بورڈ ہے جس میں ہندو اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔ سنور پٹیل کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جب کہ منوج مالپانی اور انیمیش بھارگوا کو ہندو اراکین کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

 عارف مسعود نے کیا چیلنج 

کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے کہا کہ وقف ایکٹ کا مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور ریاستی حکومت کو ایسی تقرریوں سے پہلے عدالت کے حتمی فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی تنظیم نو اور غیر مسلم ارکان کو شامل کرنا نامناسب ہے اور اس سے کئی قانونی سوالات اٹھتے ہیں۔ ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور وقف بورڈ کے ارکان کی تشکیل اور تقرری کو چیلنج کریں گے۔

 پی سی شرما نے کی بھی تنقید 

سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی سی شرما نے بھی اس اقدام پر تنقید کی۔ انہوں نے بی جے پی پر عوامی خدشات کے بجائے مذہبی مسائل پر توجہ دینے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا، "بی جے پی کے پاس 'ہندو-مسلم' اور 'انڈیا-پاکستان' کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شرما نے الزام لگایا کہ اس فیصلے کا مقصد ایودھیا کے رام مندر میں پرساد کی چوری اور وزیر اعلیٰ یادو کے خلاف الزامات سے توجہ ہٹانا ہے۔

بی جے پی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا 

تاہم بی جے پی نے نئے بورڈ کا خیر مقدم کیا اور کانگریس کے اعتراضات کو مسترد کردیا۔ ریاستی وزیر وشواس سارنگ نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ مدھیہ پردیش پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے وقف ایکٹ کو لاگو کیا اور بورڈ میں دو ہندو ممبران کا تقرر کیا۔تنقید کا جواب دیتے ہوئے سارنگ نے کہا، "یہ مسجد کمیٹی میں کسی غیر مسلم کو شامل کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ وقف بورڈ الگ ہے۔ اسے مذہب کی عینک سے دیکھنا حیرت کی بات ہے۔ وقف بورڈ صرف مساجد تک محدود نہیں ہے، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔"

 بی جےپی نے تقرریوں کا کیا دفاع

بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما نے بھی تقرریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہی لوگ جنہوں نے وقف اراضی پر ناجائز قبضہ کیا ہے اس فیصلے پر اعتراض کریں گے۔انہوں نے کہا، "وقف بورڈ کی زمین ہندوستان کی ہے، اور ہر کوئی گنگا جمونی ثقافت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ ملک کی ثقافت کا حصہ ہے۔ یہ زمین غریبوں کو دی جانی ہے۔ وقف کی زمین کسی ملا یا مولوی کے نام نہیں رکھی گئی ہے۔"۔شرما نے مزید کہا، "مسلمانوں کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہئے؛ جو لوگ وقف املاک میں غبن کر رہے تھے، وہ یقیناً پریشان ہوں گے۔"