راجستھان کے ضلع چتوڑ گڑھ میں واقع میواڑ یونیورسٹی سے 33 کشمیری طلبہ کو معطل کیے جانے کا معاملہ اب سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔ یہ طلبہ اپنے نرسنگ کورس کی رجسٹریشن اور منظوری (Recognition) کے حوالے سے پرامن احتجاج کر رہے تھے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے خلاف یہ کاروائی کی۔
ایم ایل اے الطاف کلو کا سخت ردِ عمل:
نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی (MLA) الطاف کلو نے اس واقعے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جائز مانگوں کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کو معطل کرنا سراسر غلط ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس مسئلے کو ایوان (House) میں اٹھائیں گے اور متعلقہ وزارتوں سے جواب طلب کریں گے۔الطاف کلو نے ملک کی تمام ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) سے اپیل کی کہ وہ کشمیری طلبہ اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
احتجاج کی اصل وجہ کیا ہے؟
معطل کیے گئے یہ 33 طلبہ B.Sc. نرسنگ کے طالب علم ہیں۔ طلبہ کو معلوم ہوا کہ ان کے کورس کو ابھی تک 'راجستھان نرسنگ کونسل' یا 'انڈین نرسنگ کونسل' سے منظوری نہیں ملی ہے۔نرسنگ جیسے پروفیشنل کورس کے لیے ان اداروں سے الحاق لازمی ہے۔ اس کے بغیر ڈگری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی اور نہ ہی مستقبل میں نوکری مل سکتی ہے۔طلبہ کا الزام ہے کہ گزشتہ سال یونیورسٹی کے رجسٹرار نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا، لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
متاثرہ طلبہ کی صورتحال:
یونیورسٹی میں اس کورس میں 50 سے زائد کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کی بات سننے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے ڈرانے دھمکانے اور معطلی جیسے اقدامات پر اتر آئی ہے، جس سے ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔