مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے کی صورتحال دن بہ دن مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، خصوصاً اس وقت جب ٹرمپ اور ایران کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اپنے حالیہ الٹی میٹم پر عمل کرتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بناتا ہے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم نے جنوبی اسرائیل کے ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں حالیہ ایرانی میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور اسے ایک “معجزہ” قرار دیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے مزید میزائل بھی فائر کیے گئے ہیں، جس سے خطرات بدستور موجود ہیں۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ایک بڑے تیل کے ذخیرے پر حملے کے بعد شہر بھر میں سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل پھیل گئے، جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے کئی رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ خرم آباد شہر میں بھی فضائی کارروائی کی گئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدید ماحولیاتی اور صحت کے بحران جنم لے سکتے ہیں۔ دھوئیں میں موجود زہریلے کیمیکلز نہ صرف شہریوں کی سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ ماحول پر بھی دیرپا منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
مقامی حکام اور امدادی ادارے صورتحال پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔