• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بہارمیں نتیش کا راج ختم۔ وزیراعلیٰ کےعہدے سے دیا استعفیٰ

بہارمیں نتیش کا راج ختم۔ وزیراعلیٰ کےعہدے سے دیا استعفیٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 14, 2026 IST

بہارمیں نتیش کا راج ختم۔ وزیراعلیٰ کےعہدے سے دیا استعفیٰ
بہار کی سیاست میں ایک تاریخی موڑ اس وقت آیا جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 14 اپریل 2026 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر سید عطا حسنین کو لوک بھون پہنچ کرپیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں ان کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط حکمرانی کا اختتام ہو گیا۔نتیش کمار، جو بہار کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعلیٰ رہے، حال ہی میں راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 10 اپریل کو انہوں نے ایوان بالا کے رکن کے طور پر حلف لیا، جس کے بعد آئینی تقاضوں کے تحت انہیں ریاستی ایگزیکٹو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس سے قبل وہ 30 مارچ کو قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے چکے تھے۔

نتیش کی قیادت میں کابینہ کا آخری اجلاس 

استعفے سے قبل وزیر اعلیٰ کی صدارت میں بہار کابینہ کا ایک مختصر مگر اہم اجلاس منعقد ہوا، جو تقریباً 20 منٹ جاری رہا۔ اس اجلاس میں نتیش کمار نے اپنے ساتھی وزراء کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور حکومت کی تحلیل سے متعلق ایک تجویز پیش کی گئی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ حکومت کے خاتمے کی آئینی راہ ہموار ہو گئی۔

 نتیش کا بینہ میں جذباتی لمحے 

اجلاس کے دوران ماحول جذباتی تھا۔ کئی وزراء نے نتیش کمار کی قیادت اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ زرعی وزیر رام کرپال یادو نے اسے ایک جذباتی لمحہ قرار دیا، جبکہ نائب وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ نتیش کمار نے اپنے خطاب میں سرکاری افسران، سیاسی ساتھیوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

بابا صاحب کو خراج عقیدت پیش 

اسی روز نتیش کمار نے پٹنہ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تاہم تقریب کے دوران شہد کی مکھیوں کے حملے سے کچھ دیر کے لیے افرا تفری پھیل گئی اور چند افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔

طویل ریاستی سیاست کا اختتام 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نتیش کمار کا استعفیٰ نہ صرف ان کی طویل ریاستی سیاست کا اختتام ہے بلکہ قومی سیاست میں ان کے نئے کردار کا آغاز بھی ہے۔ اب قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بہار میں نئی حکومت قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی کا وزیر اعلیٰ بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 سمراٹ چودھری ہوسکتےہیں نئے سی ایم 

ممکنہ امیدواروں میں سمراٹ چودھری کا نام سرفہرست بتایا جا رہا ہے، جبکہ نتیانند رائے اور رینو دیوی بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب 15 اپریل کو متوقع ہے۔
 
نتیش کمار کے دور حکومت کو بہار میں ترقی، نظم و نسق اور ریاستی شناخت کی بحالی کے حوالے سے یاد کیا جائے گا۔ ان کے اس فیصلے نے بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح طور پر سامنے آئیں گے۔