Tuesday, January 13, 2026 | 24, 1447 رجب
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • ٹریفک چالان پر کوئی رعایت نہیں۔ بینک اکاؤنٹ سے راست چالان کی ادائیگی

ٹریفک چالان پر کوئی رعایت نہیں۔ بینک اکاؤنٹ سے راست چالان کی ادائیگی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 12, 2026 IST

ٹریفک چالان پر کوئی رعایت نہیں۔ بینک اکاؤنٹ سے راست چالان کی ادائیگی
 تلنگانہ کےوزیراعلیٰ  اے ریونت ریڈی نے  ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت دی ہے۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ یہ تاثر کہ گاڑیوں کے چالان جاری کئے جارہے ہیں لیکن انہیں رعایت دے کر کم کیا جارہا ہے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اب سے ٹریفک چالان میں کوئی رعایت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گاڑی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کے مالک کے بینک اکاؤنٹ سے رقم خود بخود کاٹ لی جائے۔
 
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سخت کاروائی 
 
چیف منسٹر نے سڑک حادثات کو کم کرنے کے مقصد سے یوسف گوڑا اسٹیڈیم میں منعقدہ 'آرکائیو الائیو' پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں جہاں ہر منٹ میں ایک سڑک حادثہ ہوتا ہے وہیں ہر تین منٹ میں ایک شخص کی موت ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سڑک حادثات نابالغوں کو گاڑیاں دینے اور شراب کے نشے میں گاڑی چلانے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔
 
گاڑی رجسٹریشن کےوقت بینک اکاونٹ منسلک ہو
 
 انہوں نےٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت مالک کا بینک اکاؤنٹ منسلک ہونا چاہیے تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر بینک اکاؤنٹ سے رقم کاٹی جائے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس معاملے پر بینکروں کے ساتھ تال میل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے حکم دیا کہ حادثات کا شکار ہونے والے کم سن بچوں کے والدین کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
 
 محکمہ ٹرانسپورٹ اور پولیس کا تال میل ہو
 
وزیر اعلیٰ نے تجویز دی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور پولیس محکمہ سڑک حادثات کے معاملے میں تال میل سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے واقعات میں دوسروں کی غلطیوں کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں حتیٰ کہ ہماری شمولیت کے بغیر۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس طرح ہائیڈرا، ایگل اور سائبر کرائم کے محکموں کو مضبوط کیا گیا ہے اسی طرح ٹریفک کنٹرول کے لیے پولیس کا نظام تیار کیا جائے۔