شمالی کوریا نے ہفتے کے روز اپنے مشرقی ساحل سے بحیرۂ مشرقی (East Sea) کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ میزائل تجربہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے۔ شمالی کوریا پہلے ہی ان تینوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور مشترکہ مشقوں کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے اور انہیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ اسے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل پر واقع (Wonsan) کے علاقے سے متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کا پتہ چلا ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا نے (Wonsan) کے علاقے سے صبح تقریباً 5:20 بجے متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔ میزائل تقریباً 250 کلومیٹر پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔ فوج کے مطابق یہ میزائل مشرقی سمندر کی جانب فائر کیے گئے۔ میزائلوں کے داغے جانے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی اور تجزیے کی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ جنوبی کوریا کے ذرائع کے مطابق یہ میزائل ممکنہ طور پر Hwasong-11 سیریز کے بیلسٹک میزائل تھے۔ کچھ رپورٹس میں 600 ملی میٹر کے متعدد راکٹ لانچرز کے استعمال کا بھی ذکر ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ وہ تازہ میزائل تجربے کے بارے میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ تینوں ممالک کے حکام میزائل داغے جانے سے متعلق معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں اور شمالی کوریا کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ تازہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جزیرہ نما کوریا میں پہلے ہی سکیورٹی کشیدگی موجود ہے۔ شمالی کوریا اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان بھی شمالی کوریا سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوجی تعاون بڑھا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا نے میزائل تجربے کی مذمت کی
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ شمالی کوریا کا میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور پیانگ یانگ سے ایسے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ نے فوری خطرے کی تردید کردی
امریکی پیسیفک کمانڈ نے شمالی کوریا کے تازہ میزائل تجربے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان میزائلوں سے امریکی سرزمین یا خطے میں موجود اس کے اتحادیوں کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ امریکی کمانڈ نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اپنے ملک کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ امریکی حکام نے جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔امریکی اور جنوبی کوریائی حکام میزائل تجربے کے بعد صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور شمالی کوریا کی مزید سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
پانچ روزہ ’فریڈم ایج‘ فوجی مشقیں
شمالی کوریا کی جانب سے میزائل داغے جانے کا واقعہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کے اختتام کے بعد پیش آیا۔ ان مشقوں کو ’فریڈم ایج‘ (Freedom Edge) کا نام دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان فوجی مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ جوہری اور میزائل خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان وقتاً فوقتاً مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنے خلاف فوجی کاروائی کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی سرگرمیاں شمالی کوریا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ فوجی مشقوں کے آغاز کے چند گھنٹوں بعد ہی شمالی کوریا کے وزیر دفاع کیم سونگ گی (Kim Song Gi) نے ان مشقوں پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے فوجی تعاون کو شمالی کوریا کے خلاف خطرہ قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کی وارننگ دی تھی۔ کیم سونگ گی نے کہا تھا کہ شمالی کوریا ’طاقت کے نقطہ نظر سے سخت اور مؤثر جوابی کاروائی‘ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیانگ یانگ تینوں ممالک کی مشترکہ فوجی سرگرمیوں کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
ہفتے کے روز کیے گئے تازہ میزائل تجربات ان فوجی مشقوں کے اختتام کے ایک دن بعد سامنے آئے۔ اس طرح شمالی کوریا نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کو قبول نہیں کرتا۔
تازہ میزائل تجربے کے بعد کوریائی جزیرہ نما میں پہلے سے موجود سکیورٹی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ ایک جانب امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان مشترکہ دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب شمالی کوریا میزائل تجربات کے ذریعے اپنے فوجی پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں مستقبل کے سکیورٹی حالات کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔