ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد ،شمالی کوریا نے ملکی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ،ایک ایسا قانون منظور کیا ہے۔جس سے پوری دنیا ہل گئی ہے۔
رپوٹس کے مطابق شمالی کوریا کے نئے قانون کے تحت اگر کم جونگ اُن کسی غیر ملکی حملے میں ہلاک ہو جاتے ہیں،یا حملے کے دوران قیادت کے قابل نہیں رہےاور ملک کی جوہری افواج پر کمانڈ کا سلسلہ خطرے میں پڑ جائے،تو فوری طور پر شمالی کوریا اپنے دشمن پر ایٹمی حملہ کر ے۔
اس نئے قانون کے تحت اب اگر ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کی ہلاکت ہو جائے یا کسی غیر ملکی حملے کے دوران وہ قیادت کرنے کے قابل نہ رہیں تو شمالی کوریا فوراً جوہری حملہ کر دے گا۔یہ نیا شق 22 مارچ کو پیونگ یانگ میں شروع ہونے والے 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران منظور کیا گیا۔
برطانوی اخبار ڈی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، یہ تبدیلی مارچ میں تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کی گئی۔ جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور متعدد سینئر ایرانی حکام کی موت ہو گئی تھی۔
شمالی کوریا کی جوہری پالیسی کیوں بدلی گئی؟
ڈیفنس ماہرین کا خیال ہے کہ ایران پر ہونے والے حملوں نے شمالی کوریا کی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔ حملوں کی رفتار اور درستگی دیکھ کر پیونگ یانگ کو لگا کہ غیر ملکی طاقتیں کم جونگ اُن اور شمالی کوریائی فوجی قیادت کے خلاف بھی اسی طرح کا آپریشن کر سکتی ہیں۔