بھارت میں عیدالفطر کا مقدس تہوار ہفتہ (21 مارچ 2026) کو نہایت عقیدت، جوش و خروش اور مذہبی احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اسلام کا یہ عظیم تہوار ماہِ رمضان کے اختتام پر منایا جاتا ہے، جو عبادت، صبر، ایثار اور تقویٰ کا مہینہ ہوتا ہے۔
اس پُرمسرت موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اہلِ وطن کو دلی مبارکباد پیش کی۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے عیدالفطر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار ہر ایک کی زندگی میں خوشی، بھائی چارہ اور بھلائی کا سبب بنے۔ انہوں نے ملک کے تمام شہریوں کے لیے صحت و سلامتی اور خوشحالی کی دعا بھی کی۔
دریں اثنا، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی قوم کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ تہوار ضبطِ نفس، خدمتِ خلق، انسان دوستی اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس موقع پر معاشرتی اتحاد اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ادھر بہوجن سماج پارٹی کی قائد مایاوتی نے بھی مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے پورے مہینے کی عبادات اور روزوں کے بعد آنے والا یہ تہوار خوشی، مسرت اور روحانی بالیدگی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مرتب کردہ آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام شہریوں کو باعزت زندگی گزارنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ملک میں امن، بھائی چارہ اور باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
ملک بھر میں آج مسلمان عید کی نماز ادا کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد کا تبادلہ کر رہے ہیں اور اس خوشی کے موقع کو اپنے اہلِ خانہ اور برادری کے ساتھ منا رہے ہیں۔ عیدالفطر نہ صرف خوشیوں کا تہوار ہے بلکہ یہ محبت، رواداری اور انسانی اقدار کو فروغ دینے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔