وزیر اعظم نریندر مودی فضائیہ کے خصوصی طیارے میں صبح 10:30 بجے آسام کے ڈبرو گڑھ ضلع میں موران بائی پاس پر ہنگامی لینڈنگ کی سہولت پر اتریں گے۔ وزیر اعظم مودی کے اترنے کے ساتھ ہی ہائی وے پر یہ فضائی پٹی فضائیہ کے اسٹریٹجک نیٹ ورک کا حصہ بن جائے گی۔
قومی شاہراہ پر یہ 4.2 کلو میٹر طویل ہوائی پٹی شمال مشرق میں پہلی ایسی سہولت ہے جو ہنگامی حالات میں فضائیہ کے لڑاکا اور ٹرانسپورٹ طیاروں کو چلانے کی اجازت دیتی ہے۔ موران بائی پاس پر یہ سہولت دور دراز علاقوں میں انسانی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں کے دوران بھی اہم ثابت ہوگی۔ یہ فضائی پٹی رافیل اور سخوئی جیسے 40 ٹن کے لڑاکا طیارے اور 74 ٹن تک کے بھاری کارگو طیارے کو سنبھال سکتی ہے۔ موران بائی پاس پر یہ فضائی پٹی اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے کیونکہ یہ چین کی سرحد کے بہت قریب ہے۔
پانچ ہزار چار سو پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے
وزیراعظم نریندر مودی دوپہر ڈیڑھ بجے گوہاٹی کے لچت گھاٹ پر پانچ ہزار چار سو پچاس کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد آمد و رفت کے نظام کو بہتر بنانا، ڈیجیٹل ڈھانچے کو مضبوط کرنا، اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا اور عوامی نقل و حمل کو جدید بنانا ہے۔
وزیراعظم دریائے برہم پتر پر تقریباً تین ہزار تیس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کمار بھاسکر ورما پل کا بھی افتتاح کریں گے۔ اس چھ رویہ پل کی تعمیر سے گوہاٹی اور شمالی گوہاٹی کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو کر صرف سات منٹ رہ جائے گا۔