وزیر اعظم نریندرمودی نے گزشتہ روز حیدر آباد میں منعقدہ بی جے پی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ یقین ظاہر کیا کہ آئندہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو کبھی جنوبی ہند اور شمال مشرقی ریاستوں میں ایک محدود پارٹی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بی جے پی کے لیے عوامی حمایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ اگر نظریات قوم کے مفاد میں ہوں تو کوئی سرحد ان کی گونج کو نہیں روک سکتی۔
اس دوران وزیرِ اعظم مودی نے کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس ملک میں تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔اور اب وہ بائیں بازو کی جماعتوں اور مسلم لیگ سے بھی زیادہ شدت پسند بن چکی ہے۔
اسی پروگرام میں وزیراعظم مودی اور تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے درمیان دلچسپ سیاسی جملوں کے تبادلے نے تقریب کو توجہ کا مرکز بنا دیا۔تقریب کے دوران وزیراعظم مودی نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو اپنے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش بھی کی۔ دوسری جانب ریونت ریڈی نے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے زیر التوا منظوریوں، فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کا مسئلہ براہِ راست وزیراعظم کے سامنے اٹھایا۔
اس پر وزیراعظم مودی نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا ۔اور کہا کہ تلنگانہ کو آج ان کی حکومت سے گجرات سے زیادہ فنڈ مدد مل رہا ہے۔سیاسی حلقوں میں اس تبادلۂ خیال کو مرکز اور ریاست کے تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔