پنجاب میں جمعہ، 21 اگست کو سات گھنٹے کا ریاست گیر ہڑتال کی گئی۔ یہ ہڑتال قومی انصاف مورچہ (QIM) نے سکھ قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہڑتال کا وقت صبح 7 بجے سے دوپہر 2 بجے تک رکھا گیا ہے۔ سکھ تنظیموں اور کسان تنظیموں سمیت کئی گروپوں نے اس ہڑتال کی حمایت کی ہے، جس کے باعث ریاست میں معمول کی زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر دیکھئےگئے۔
کن تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی؟
ہڑتال کی حمایت کرنے والی تنظیموں میں سنیوکت کسان مورچہ (SKM)، شرومنی اکالی دل (پنر سرجیت)، شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC)، اکالی دل وارث پنجاب دے اور مختلف نہنگ تنظیمیں شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہڑتال میں حصہ لیں اور سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کی حمایت کریں۔SGPC نے بھی اپنی میٹنگ ملتوی کردی،شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) نے 21 اگست کو ہونے والی اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ بھی ملتوی کرکے 22 اگست کو کردی۔
پنجاب میں ہڑتال کا اثر؟
ہڑتال کے دوران کئی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئے۔ دکانیں اور بیشتر تجارتی ادارے صبح 7 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند رکھے گئے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، خاص طور پر بسوں اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ کی خدمات بھی کچھ متاثر ہوئیں۔ غیر ضروری کاروبار اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے رہی۔ ہر شہر اور علاقے میں صورتحال مختلف یدکھی گئی ۔ مجموعی طور پر ہڑتال پرامن رہی ۔
ایمرجنسی خدمات؟
ضروری خدمات کو ہڑتال سے الگ رکھا گیا ہے۔ ہسپتال معمول کے مطابق خدمات کھلے رہے گے۔ میڈیکل اسٹورز اور ادویات کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
دیگر ضروری اور ہنگامی خدمات ایمبولینس ،ہسپتال کی ایمرجنسی،فائر بریگیڈ،پولیس،ریسکیو سروس بھی کھلے رہنے کا امکان ہے۔ سرکاری دفاتر کو بند رکھنے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ان کے معمول کے مطابق کام کرنے کی توقع ہے۔ پنجاب میں سرکاری اسکول بھی کھلے رہیں گے۔
نجی اسکولز بند؟
پرائیویٹ اسکول بند رہیں گے۔ اس لیے طلبہ اور والدین کو جمعہ کے روز نجی تعلیمی اداروں میں کلاسز نہ ہونے کا خیال رکھنا ہوگا۔
پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات ملتوی
ہڑتال کے پیش نظر پنجاب یونیورسٹی نے جمعہ کو ہونے والے امتحانات کا شیڈول تبدیل کر دیا ہے۔ طلبہ کو امتحانات کی نئی تاریخ کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ معلومات دیکھنی ہوں گی۔
ہڑتال کیوں کی جا رہی ہے؟
ہڑتال کی بنیادی وجہ سکھ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہے۔ قومی انصاف مورچہ کا مطالبہ ہے کہ ایسے سکھ قیدیوں کو رہا کیا جائے جو اپنی قانونی سزا پوری کرچکے ہیں لیکن اب بھی جیلوں میں موجود ہیں۔ ان میں جگتار سنگھ کا نام بھی شامل ہے، جو 1995 میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ قومی انصاف مورچہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہڑتال میں شامل ہو کر اس مطالبے کی حمایت کریں۔
15 اگست کو چندی گڑھ میں بھی احتجاج
اس مطالبے کے سلسلے میں 15 اگست کو چندی گڑھ میں پنجاب کے گورنر گلاب چند کٹاریا کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
پولیس نے شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے صدر سمرن جیت سنگھ مان کو بھی حراست میں لیا تھا، جب وہ گورنر کی رہائش گاہ کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سکھ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
ہڑتال کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی قانونی سزا پوری کرچکا ہے تو اسے مزید جیل میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ شرومنی اکالی دل (پنر سرجیت) کے صدر گیانی ہرپریت سنگھ نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب ہندوستان کا حصہ ہے اور آئین سب شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو سکھوں کو بھی مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق "Misl Satluj Party "نے بھی بند کی حمایت کی ہے اور لوگوں سے پرامن طریقے سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔