ملک میں بڑھتی ہوئی رسوئی گیس کی قلت اور کمرشل سیلنڈروں کی فراہمی روکے جانے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں کانگریس رہنما راہل گاندھی بھی شریک ہوئے جنہوں نے پارلیمنٹ کے صدر دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چائے نوشی کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروایا۔
احتجاج کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کئی اہم عوامی مسائل کو لے کر جمع ہوئے۔ اس موقع پر راہل گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ کر علامتی طور پر چائے پی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ارکان پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ حکومت اہم قومی مسائل پر پارلیمنٹ میں کھلی بحث سے گریز کر رہی ہے، جس کے خلاف اپوزیشن مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن نے کمرشل گیس سیلنڈروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، قلت اور مبینہ کالا بازاری کے مسئلے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر سچائی عوام کے سامنے نہیں لا رہی جبکہ ملک بھر میں کمرشل گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جس سے باورچی خانے کے اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
رنجیت رنجن کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے ڈھابوں اور ریستورانوں پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یومیہ مزدور 50 سے 150 روپے میں کھانا کھا لیتے تھے، مگر اب گیس کی بڑھتی قیمتوں اور قلت کے باعث کئی چھوٹے ڈھابے بند ہو چکے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو ملک بھر میں عام لوگوں اور چھوٹے کاروباری طبقے کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر گیس کی فراہمی کو معمول پر لائے اور قیمتوں میں اضافے کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرائی جائے۔