راجستھان کے شہر کوٹہ میں گزشتہ رات ایک تین منزلہ عمارت کے گرنے سے 2 افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حادثہ ہفتہ کی رات تقریباً 9 بجے پیش آیا۔ عمارت کی سب سے نچلی منزل پر ایک ریسٹورنٹ تھا۔ حادثے کے وقت یہاں 10-12 ملازمین اور چند گاہک موجود تھے جو ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لوگوں کو ملبے سے نکالا۔ ہسپتال منتقل کیے گئے 10 زخمیوں میں سے 2 کی موت ہو گئی۔
ہلاکتوں میں 14 سالہ بچہ بھی شامل:
بتایا جا رہا ہے کہ جس عمارت کا ملبہ ہوا، اس کے پیچھے تعمیراتی کام جاری تھا۔ اس وجہ سے ڈرلنگ اور پائلنگ کے دوران عمارت میں مسلسل کمپن پیدا ہو رہا تھا۔ ممکنہ طور پر یہی حادثے کی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ اس حادثے میں ایک 20 سالہ طالب علم اور 14 سالہ بچے کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹ کا مالک بھی ملبے تلے دب گیا اور اس کے دونوں پاؤں کٹ گئے۔
لوک سبھا اسپیکر اور کوٹہ کے سانسد اوم برلا کا بیان:
لوک سبھا اسپیکر اور کوٹہ سے رکن پارلیمنٹ اوم برلا نے کہا، "کوٹہ کے اندرا ویہار علاقے میں عمارت گرنے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میں ضلعی انتظامیہ کے مسلسل رابطے میں ہوں۔ حادثے میں زخمی تمام افراد کو مناسب اور فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ تمام زخمی جلد تندرست ہو جائیں۔راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دیلاور اور وزیر توانائی ہیرا لال نگر نے ہسپتال جا کر زخمیوں سے حال احوال دریافت کیا۔
حادثے کی تفصیلات اور امدادی کاروائی
یا حادثہ ہفتہ کی رات تقریباً 9 بجے پیش آیا،جس میں ایک 20 سالہ طالب علم اور ایک 14 سالہ بچہ کی موت ہو گئی۔جبکہ 10 سے زائد جن میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے زخمی ہیں۔انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے، خاص طور پر پیچھے جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے ہونے والے کمپن پر توجہ دی جا رہی ہے۔یہ واقعہ 7 فروری 2026 کی رات کا ہے، اور تاحال امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کو کوٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔