Saturday, May 09, 2026 | 21 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • روس -یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان،امریکہ کی یورپی اتحادیوں پر ایران کی مخالفت کرنے کا زور

روس -یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان،امریکہ کی یورپی اتحادیوں پر ایران کی مخالفت کرنے کا زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 09, 2026 IST

روس -یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان،امریکہ کی یورپی اتحادیوں   پر ایران کی مخالفت کرنے کا  زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ۔یوکرین جنگ میں تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان 9 مئی سے 11 مئی تک جنگ بندی ہوگی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کوئی فوجی کاروائی نہیں ہوگی اور ہتھیاروں کے حملے روک دیے جائیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ بندی روس کے یوم فتح کی تقریبات کے دوران لاگو ہوگی۔
 
 روس ہر سال 9 مئی کو دوسری جنگ عظیم میں اپنی فتح کی یاد میں یوم فتح مناتا ہے۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہاکہ دوسری جنگ عظیم میں یوکرین نے اہم کردار ادا کیاتھا۔ ٹرمپ نے اس وقت کو دونوں ممالک کیلئے اہم بتایا۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ بندی کے دوران روس اور یوکرین ایک ہزار جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔ 
 
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی:
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں بہتری نہیں آئی یا جلد کوئی حتمی معاہدہ نہ ہوا توامریکہ پراجکٹ فریڈم کی طرف لوٹ سکتاہے۔  ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ نہ صرف پراجیکٹ فریڈم کی طرف لوٹ سکتے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے پروجیکٹ فریڈم پلس کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی ڈیل ہو سکتی ہے اسی لیے آپریشن کو حال ہی میں روک دیا گیا تھا۔ٹرمپ نے پراجیکٹ فریڈم کو روکنے کے باوجود واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے جاری رہے گی۔
 
امریکہ کی یورپی اتحادیوں   پر ایران کی مخالفت کرنے کا  زور :
 
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ بیان بازی سے آگے بڑھیں اور ایران کے خلاف ٹھوس کاروائی کریں۔ انہوں نے ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ پر کشیدگی کے بعد دو روزہ دورے کے دوران اٹلی اور ویٹیکن کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم جارجیا میلونی اور وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد بات کرتے ہوئے روبیو نے خبردار کیا کہ تہران اسٹریٹجک آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 
 
انہوں نے اس اقدام کو ناقابل قبول اور عالمی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔ روبیو نے روم میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ ایران ایک خطرہ ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا لیکن آپ کو اس کے بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔انہوں نے تہران کو امریکی سمندری اثاثوں کو نشانہ بنانے کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے آبنائے میں بحریہ کے تین جہازوں پر حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔