سنجے راؤت نے ایک تفصیلی اور سخت بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ راگھو چڈھا سمیت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے راجیہ سبھا کے دو تہائی ارکان ممکنہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو گئے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
بی جے پی پر سخت تنقید
سنجے راؤت نے بی جے پی کی سیاست کو “بے شرمی” قرار دیتے ہوئے کہا، ہر کوئی بی جے پی کی سیاست کے برانڈ سے واقف ہے۔ اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو یہ ‘بے شرمی’ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی رہنما جو پہلے بی جے پی کو “غنڈوں، ٹھگوں اور بدعنوانوں کی پارٹی” کہتے تھے، اب اسی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، جو ایک بڑا تضاد ہے۔
مہابھارت کی مثال
اپنی تنقید کو مزید واضح کرنے کے لیے سنجے راؤت نے مہابھارت کے کردار بکاسورا کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق بی جے پی ایک ایسی جماعت بن گئی ہے جس کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی، جیسے بکاسورا ہر چیز کو کھا جاتا تھا۔
‘واشنگ مشین’ سیاست کا الزام
سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ بی جے پی میں شامل ہونے والے سیاستدان اپنی بدعنوانی کے الزامات سے بچنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ سب لوگ بی جے پی کی واشنگ مشین میں جا کر اپنے گناہ دھو لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے اپنے رہنما پہلے انہی افراد کو “منافق” اور “کرپٹ” کہتے تھے، مگر اب انہیں قبول کیا جا رہا ہے۔
دباؤ اور خوف کا عنصر
سنجے راؤت کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کے کئی اراکین دباؤ یا خوف کے تحت بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، آپ کے ایم ایل اے اور ایم پیز خوف کی وجہ سے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے چھاپے اور کارروائیاں اس دباؤ کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہیں، اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص کیس کی تفصیل نہیں دی۔