جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ کے چرچو بلاک کے تحت انگو گونڈوار گاؤں میں ہاتھیوں کے جھنڈ کے گھسنے سے ایک خاندان کے چار افراد سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ ضلع انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا، "یہ واقعہ صبح 2 بجے کے قریب انگو گونڈوار بھویاں ٹولی گاؤں میں پیش آیا۔ مہلوکین میں دو نابالغ بچے بھی شامل تھے، جن کی عمریں ڈیڑھ اور چار سال تھیں۔ ایک بچے کی میڈیکل کالج اور ہسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔"
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پانچ ہاتھیوں کا جھنڈ گاؤں میں داخل ہوا اور پہلے ایک 60 سالہ شخص پر حملہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ جب خاندان کے دیگر افراد مدد کے لیے باہر نکلے تو انہیں گھیر لیا گیا اور روند کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہزاری باغ (مشرق) کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وکاش کمار اجول نے کہا کہ ایک فوری رسپانس ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور ریوڑ کو جنگل کی طرف واپس لے جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔اجول نے کہا، "ریوڑ کو کرگی جنگل کی طرف لے جانے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔"
جنگلات کے افسر نے کہا کہ محکمہ اس واقعے کی وجہ کا اندازہ لگا رہا ہے، لیکن ابتدائی نتائج دونوں طرف سے ناواقفیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں جنگلی ہاتھی کبھی نہیں دیکھے گئے، اس طرح ہاتھی کے رویے سے بے خبر لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، جس سے جانور اور بھی جارحانہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ ہاتھیوں کو علاقے کے منظر نامے کا بھی علم نہیں تھا۔
لوگوں نے بتایا کہ دیہات میں ہاتھیوں کا غول گھوم رہا ہے۔ جس سے متعلقہ دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ہاتھی بہت سے لوگوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کےباوجود بھی حکا م نے ٹھوس اقدام نہیں کیا اور چھ افراد کی جان چلی گئی۔