آج کے دورمیں ہرغم خوشی اور کامیابی کی تصویر ایک کلک کے ساتھ منظرعام پرآجاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول، ہنر سیکھنے اور خود نمائی کے طریقے بدل دیے ہیں۔ اور اس تبدیلی نے محنت اور صبر کے تصور کو ختم کر دیا ہے،سوشل میڈیا صرف فیس بک اور انسٹاگرام کا نام نہیں ہے بلکہ سماجی، ٹیکنیکی، ڈھانچہ ہے جو ویڈیو زبنانے، شیئر کرنے، اور فورا ًرائے پانے کا موقع دیتا ہے،اور اسی تیزی نے محنت اور تعلیم کے روایتی نظام کو ختم کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا جہاں دنیا بھر کی معلومات آپ تک پہنچاتا ہے۔ وہیں کئی خرابیاں کا بھی ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا کو دو دھاری ہتھیار کہا جائےتو غلط نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا کےبے جا استعمال بری عادت
چند سالوں پہلے تک معلومات کا حصول کتابیں ہوا کرتی تھی اساتذہ اور ان کے تجربات ہوا کرتے تھے،لیکن آج سوشل میڈیا کی آسان رسائی نے تعلیم کو سستا اور بغیر تحقیق والا بنا دیا ہے،اور آج کی نوجوان نسل صبح اٹھتے ہی موبائل دیکھتی ہے ۔اور سونے سے پہلے بھی موبائل دیکھتی ہے۔ یعنی موبائیل نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس عادت نے ان کے ذہنوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔
نوجوان نسل کے دو بڑے چیلنجز
آج کے دور میں ہماری نوجوان نسل دو بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے ایک طرف تو ہے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اور دوسری طرف تعلیم اور کا دباؤ۔یعنی ایک طرف سوشل میڈیا کا چمکتا ہوا چہرہ اور دوسری طرف محنت اور صبر۔یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان ان لائن اپنی شناخت بنانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔پہلے کامیابی کا مطلب ہوتا تھا محنت جدوجہد اور مستقل مزاجی۔اور آج کامیابی کا مطلب ہے شیئر کرنا ،نظر آنا اور پسند کیے جانا۔یہی وجہ ہے کہ دو منٹ کے لیے فون کھولنے والا نوجوان جب ہوش میں آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر تین گھنٹے گزر چکے ہیں۔
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال طلبا کےلئےزہر
سوشل میڈیا طلبا کے لیے زہر کا کام کر رہا ہے۔کیونکہ ایک طرف تعلیمی کارکردگی اور تعلیم کا اونچا معیار،دوسری طرف سوشل میڈیا اور اس کی چمک دھمک والی زندگی۔ ان چیزوں نے نوجوانوں کی ذہنی جذباتی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
سوشل میڈیا نے دنیا سے جوڑا
جہاں نوجوانوں کو سوشل میڈیا نے دنیا سے جوڑا ہے ان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے رکھا ہے وہیں اس کا منفی پہلو بھی سامنے آرہا ہے۔ اور وہ ہے مسلسل دوسروں کی کامیاب اورخوبصورت طرز زندگی کو سوشل میڈیا پر دیکھنا اوراحساس کمترے میں مبتلا ہو جانا۔یعنی سوشل میڈیا نوجوانوں کی خود اعتمادی کو متاثر کر کے انہیں ڈپریشن اور بے چینی کا شکار بنا رہی ہے۔ ایک طرف پڑھائی اور اچھے نمبروں کی دوڑ والدین اور معاشرے کی توقعات پر پورا اترنا ، اور غیر یقینی مستقبل جیسی صورتحال سے نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اپنے قابلیت کو ناسمجھ کر کامیابی کی روایتی پیمانوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے منفی اثرات:
ہندوستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے سارفین کی تعداد 500 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اور ایک صارف تین سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے۔ جنرل آف امریکن ایسوسی ایشن میں شائع ہو ئی رپورٹ کے مطابق،جن بچوں نے سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارا ان کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے ۔
ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر کے نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا پر گزارا۔ ان کا مقصد غیر ملکی کرنسی اور شہرت حاصل کر نا اور کم وقت میں مالا مال ہو جانا ہے۔
سوشل میڈیا نفرت پھیلانے کا ذریعہ ؟
سوشل میڈیا کی طاقت سے سیاست داں بھی خوب فائدہ اٹھا رہےہیں۔ سیاست دانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کواکسایا ہے۔ جس کی مثال جن زی کا طوفان ہے۔ اس طوفان نے نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا میں حکومتوں کا تختہ الٹ دیا۔ بعض سیاست داں اس کا خوف منفی استعمال کررہےہیں۔ وہ نوجوانوں کوایک ٹاسک سونپ دیتےہیں تاکہ وہ اپنے مخالفیں کے کردار کشی میں کوئی کسرنہ چھوڑیں۔ اس سے لوگوں میں اپس میں نفرت بڑھ گئی ہے۔
سوشل میڈیا سےاخلاق اور صحت پراثر
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان نوجوانوں کا غیر اخلاقی مواد دیکھنا ہے۔ جس سے ہی جان خیزی میں اضافہ ہوا ہے۔ آج کی نوجوان نسل کھانے پینے اڑھنے پہننے میں مغربی ممالک کی تقلید کر رہی ہے۔ اب زیادہ تر نوجوانوں کو گھر کا تغذیہ بخش کھانا نہیں بلکہ فاسٹ فوڈ پسند آنے لگا ہے۔
وقت اور پیسوں کی بربادی
سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں میں مختلف گیم کھیلنے کی لت لگ چکی ہے۔ا ور بعض گیمز گیم جان لیوا ہیں۔ دوسرے ملک والوں اور اَن ناؤن پرسن سے دوستی کرنا غلط معاملات میں پھنس جانا اور پھر پولیس کیسز،آئے دن کا معمول بن چکا ہے ۔لوگ اپنی کمائی کا بڑا حصہ جانے انجانے میں اٹھا رہےہیں۔
تعلیمی اداروں کی غیرذمہ دارانہ عمل
اکثرتعلیمی اداروں نے آن لائن اسٹڈی کو فرض سمجھ لیا ہے۔اور نوجوان نسل آن لائن اسٹڈی کو بہانہ بنا کر موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال اپنا حق سمجھتی ہے،اور والدین ان کے اس بیانیہ کو ماننے پر مجبور ہیں۔ بعض اسکول انتظامیہ ہوم ورک کے نام پر واٹس ایپ پرمسیج کرتےہیں۔ بچے ہوم ورک دیکھنے کے بہانے موبائیل اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتےہیں۔
کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
بڑھتے ہوئے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک نے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کر دیا ہے۔آسٹریلیا انڈونیشیا اور یورپی ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔جبکہ ہندوستان بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کے لیے پالیسی پر غور کر رہا ہے۔ کرناٹک، آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں نے اسکولی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائی ہے۔
سوشل میڈیا کے مثبت اثرات
جہاں تک سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں پر بات کی جائے، تو سوشل نیٹ ورکنگ اور تفریقی سہولتیں ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر دینا سوشل میڈیا کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
بعض اوقات علاقے میں اچھے استاد یا ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بچے اچھی تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے یہ محرومی دور کر دی ہے۔
اب سوشل میڈیا کے ذریعے اندرون یا بیرون ملک کہیں بھی بچوں کو اچھے سے اچھی تعلیم دلوائی جا سکتی ہے۔ بچے مختلف ایپ کے ذریعے ماہرین کے ان لائن کلاسز سے مستفید ہو سکتے ہیں۔کسی بھی مضمون کے کسی بھی موضوع پر سوشل میڈیا میں ماہرین فن کے لیکچررز اور ویڈیو سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔نایاب کتاب جو پہنچ سے دور ہے فری میں مطالعہ کر سکتے ہیں۔
آن لائن کاروبار آج کل بہت ترقی پر ہے ۔ آن لائن اپنا کاروبار کےذریعہ ملک اور بیرونی سے کمائی ہوسکتی ہے۔سوشل میڈیا آن لائن بزنس کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔جس سے ہزاروں لاکھوں نوجوان گھر بیٹھ کر کما رہے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کےدور میں حلال آمدنی آسان ہوگئی ہے۔
منفی اثرات سے کیسے محفوظ رہیں
- سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر پڑنے والے اثرات پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہے۔سوشل میڈیا کو صرف ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے۔
- والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ اور نہ ڈالیں،ان کی صلاحیتوں کو سمجھیں اور ان کی بہتر رہنمائی کریں۔
- جب کوئی طالب علم اچھی کارکردگی کرتا ہو تو اس کی صلاحیتوں اور خوبیوں کی دل کھول کر تعریف کریں۔
- اور عصر حاضرمیں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدیم اور جدید علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ٹول کا استعمال کرے۔ اوراخلاقی معیارات اورعملی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی تعلیمی نظام کو آگے بڑھائیں۔
- ہر فرد سوشل میڈیا کا استعمال احتیاط سے کرے۔ اپنے وقت کی بہتر منصوبہ بندی کرے۔ اور ایک متوازن کامیاب زندگی کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز کے لیے ایک فکری اور اخلاقی فریم ورک تیار کریں۔
نوجوان نسل کے لیے ہماری دعا ہے کہ انہیں کسی نہ خوشگوار حادثے کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ سوشل میڈیا کو صحیح معنوں میں تعلیم اور کاروبار اور دیگر مثبت کاموں میں ان کا استعمال کرے۔