Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • طواف سے متعلق چند اہم اور ضروری مسائل

طواف سے متعلق چند اہم اور ضروری مسائل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 24, 2026 IST

طواف سے متعلق چند اہم اور ضروری مسائل
موجودہ دور میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ حاجی حج کے دوران بڑے پیمانے پر ویل چیئر، الیکٹرک گاڑی   کے ذریعہ طواف کر رہے ہیں،اب ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنا صحیح ہے۔ آئیے جانتے ہیں علمائے دین اس تعلق سے کیا کہتے ہیں۔
 
 اس تعلق سے علماء فرماتے ہیں  کہ جو شخص پیدل طواف کرنے پر قدرت رکھتا ہو، اس پر پیدل طواف کرنا واجب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص بلا عذرِ شرعی، محض سہولت، آرام یا جلدی کی خاطر ویل چیئر، الیکٹرک گاڑی یا اسکوٹی وغیرہ کے ذریعے طواف کرے تو اس پر دم لازم ہوگا۔
 
 البتہ اگر کوئی شخص بیماری، کمزوری، بڑھاپے یا کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے پیدل طواف کرنے سے عاجز ہو تو اس کے لیے ویل چیئر یا کسی سواری کے ذریعے طواف کرنا جائز ہے، اور ایسی صورت میں نہ کوئی کراہت ہوگی اور نہ ہی دم یا صدقہ واجب ہوگا۔
 
کیا کسی معذور کو کو طواف کراتے ہوئے اپنا طواف بھی ادا ہو جائے گا؟
 
جو شخص کسی معذور، بیمار یا ضعیف کو ویل چیئر پر بٹھا کر طواف کروا رہا ہو، اس کا اپنا طواف اسی وقت ادا ہوگا جب وہ اپنے لیے مستقل طور پر طواف کی نیت کرے۔محض ویل چیئر دھکیلنے یا دوسرے شخص کو طواف کروانے سے اس کا اپنا طواف ادا نہیں ہوگا، کہ عبادات کی صحت کے لیے نیت شرطِ  ہے۔ لہٰذا اگر وہ اپنے طواف کی بھی نیت کرلے تو  اس کا طواف ادا ہو جائے گا۔
 
کیا طواف کی غرض سے مانعِ حیض  ادویات استعمال کرنا جائز ہے؟
 
طواف کے لیے عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ لہٰذا اگر کوئی عورت مانعِ حیض دوا استعمال کرے اور اس کے اثر سے خون بند ہوجائے تو وہ شرعاً پاک شمار ہوگی، اور اس کے لیے طواف کرنا جائز ہوگا۔
 
البتہ حیض ایک طبعی و فطری امر ہے، اس لیے اگر ایسی دوا کا استعمال مضرِ صحت ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ پاک ہونے کے بعد طواف  ادا کرے۔ اور اگر دوا مضرِ صحت نہ ہو، یا ضرورت کے تحت استعمال کرلی اور حیض نہ آیا، تو عورت شرعاً پاک شمار ہوگی اور اس کا طواف درست ہوگا۔
 
طواف کے دوران ستر  عورت کا  کیا حکم ہے؟
 
طواف  کے دوران ستر کا چھپا نا واجب ہے۔ چنانچہ اگر کسی عضو کا چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کھلا رہا تو کفارہ لازم ہوگا۔اسی طرح اگر متعدد اعضاکے تھوڑے تھوڑے حصے کھلے ہوں، اس طرح کہ ہر عضو کا کھلا ہوا حصہ اس کی چوتھائی سے کم ہو، لیکن ان تمام کھلے حصوں کا مجموعہ اُن اعضا میں سے سب سے چھوٹے عضو کی چوتھائی کے برابر ہو جائے، تب بھی کفارہ لازم ہوگا۔
 
 اب  اگر طوافِ فرض یا طوافِ واجب، مثلاً طوافِ زیارت، طوافِ عمرہ یا طوافِ وداع اس حال میں کیا کہ ستر بقدرِ مانعِ نماز کھلا رہا، تو اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم لازم ہوگا۔اور اگر طوافِ نفل یا طوافِ سنت میں ستر بقدرِ مانعِ نماز کھلا رہا، تو اعادہ نہ کرنے کی صورت میں صدقہ لازم ہوگا۔
 
بے وضو طواف کرنے کا کیا حکم ہے؟ 
 
طواف میں باوضو ہونا واجب ہے، اس لیے بلا وضو طواف کرنا خلافِ واجب ہے، اور اس کی مختلف صورتوں کے الگ الگ احکام ہیں:
 
طوافِ زیارت:اگر کسی نے طوافِ زیارت کے پورے سات یا اکثر یعنی چار یا زیادہ چکر بے وضو کیے تو اس پر دَم لازم ہوگا۔البتہ اگر وہ مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے اس طواف کا اعادہ کر لے تو دَم ساقط ہو جائے گا۔اور اگر طوافِ زیارت کے صرف ایک، دو یا تین چکر بے وضو کیے ہوں تو ہر چکر کے بدلے ایک صدقہ دینا لازم ہوگا۔ اگر اعادہ کر لیا جائے تو صدقہ بھی ساقط ہو جائے گا۔
 
عمرہ کا طواف:اگر کسی نے عمرہ کے طواف کے تمام یا اکثر چکر بے وضو کیے تو اس پر دَم لازم ہوگا،  اور اگر مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے یا واپس آ کر اعادہ کر لیا تو دَم ساقط ہو جائے گا۔اور عمرہ کے طواف میں اگر صرف ایک، دو یا تین چکر بھی بے وضو کیے ہوں تب بھی دَم ہی لازم ہوگا، کہ قول مختار پر عمرے کے طواف کی غلطی پر صدقہ نہیں ہے۔ البتہ اگر مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے یا واپس آکر اِعادہ کر لیتا ہے، تو دَم ساقط ہو جائے گا۔   قارن کے بعض احکام اس سے مختلف ہیں۔
 
طوافِ وداع، طوافِ قدوم اور نفلی طواف:اگر کسی نے طوافِ وداع، طوافِ قدوم یا کسی نفلی طواف کا پورا، اکثر یا کم حصہ بھی بے وضو کیا تو ہر چکر کے بدلے ایک صدقۂ فطر دینا ہوگا۔البتہ اگر مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے اس طواف کا اعادہ کر لیا جائے تو صدقہ ساقط ہو جائے گا۔
 
طوافِ زیارت (طوافِ افاضہ) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
 
طوافِ زیارت، جسے طوافِ افاضہ بھی کہا جاتا ہے، حج کا رکنِ اعظم اور فرض ہے۔ اس کے بغیر حج صحیح نہیں ہوتا۔ اس طواف کا وقت مدۃ العمر ہے،مگراس  طواف کے کم از کم چار پھیرے 10 ذو الحجہ کی صبح صادق سے لے کر بارہویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت میں کرنا واجب ہیں۔  
 
 اگر حالتِ جنابت میں، یا عورت نے حالتِ حیض و نفاس میں طوافِ زیارت کیا تو اس پر بدنہ، یعنی گائے یا اونٹ کی قربانی لازم ہوگی۔اور اس صورت میں جب تک مکہ میں ہو طہارت کے ساتھ اعادہ واجب ہے۔البتہ  اگر طوافِ زیارت کا اعادہ بارہویں تاریخ کے غروب تک حالت پاکی میں کر لے تو کفارہ ساقط ہو جائے گا اور بارہویں کے بعد کیا تو تاخیر کی وجہ سے دم لازم ہو گا۔ 
 
طوافِ افاضہ کے وقت اگر عورت حیض یا نفاس سے دوچار ہو جائے تو وہ طوافِ فرض کیسے ادا کرے؟
 
طوافِ افاضہ (طوافِ زیارت) حج کا رکن ہے اور اس کا وقت مدتُ العمرہے۔ اس لیے  عورت پاک ہونے تک انتظار کرے، پھر غسل کے بعد طواف ادا کر کے واپس ہو۔یہ صورت اس عورت کے لیے تو  آسان ہے جسے حج کے بعد مکہ مکرمہ میں مزید قیام کی گنجائش ہو، لیکن جس عورت کو مزید قیام کی اجازت نہ ہو، اس کے لیے یہ مسئلہ دشوار ہو جاتا ہے۔
 
 لہذا ایسی صورت میں فقہائے کرام نے یہ حکم بیان فرمایا ہے کہ اگر عورت کسی عالم سے مسئلہ دریافت کرے تو اسے بتایا جائے کہ حالتِ حیض یا نفاس میں طواف کرنا جائز نہیں، اور ایسا کرنے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوگی، جس پر توبہ لازم ہوگی۔البتہ  اسی حالت میں طواف کر لیا تو طوافِ فرض ادا ہو جائے گا، لیکن اس کے بدلے حدودِ حرم میں ایک بدنہ  کی قربانی لازم ہوگی۔
 
طوافِ وداع کا کیا حکم ہے؟ 
 
جواب:طوافِ وداع ہر آفاقی حاجی پر واجب ہے۔ اس طواف میں نہ احرام ضروری ہے، نہ رمل، اور نہ اضطباع۔ طوافِ رخصت کا اصل وقت طوافِ زیارت کے بعد ہے، یعنی طوافِ زیارت کے بعد جو طواف بھی کیا جائے، خواہ کسی بھی نیت سے ہو، وہ طوافِ وداع ہی شمار ہوگا۔ البتہ اس کا مستحب وقت وہ ہے جب حاجی مکہ مکرمہ سے روانہ ہونے لگے۔
 
وقت رخصت  عورت حالتِ حیض یا نفاس میں ہو تو اس سے طوافِ وداع ساقط ہو جاتا ہے، اور اس پر نہ طواف لازم ہے اور نہ ہی کوئی دم واجب ہوگا۔
 
اگر کوئی آفاقی حاجی طوافِ وداع کیے بغیر میقات سے باہر نکل جائے تو اب اسے اختیار ہے کہ یا تو میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر واپس آئے، عمرہ ادا کرے اور پھر طوافِ وداع کرے، ایسی صورت میں اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا؛ یا پھر واپس نہ آئے بلکہ طوافِ وداع کے ترک کے بدلے دم ادا کر دے،۔ بہتر یہ ہے کہ واپس آنے کے بجائے دم ادا کر دے، اور یہ دم حدودِ حرم میں ہی ذبح کیا جائے گا۔اور اگر ابھی میقات کے اندر ہو تو اس پر واپس آ کر طوافِ وداع ادا کرنا واجب ہے، البتہ اگر واپس نہ آیا بلکہ دم دے دیا تو بھی واجب ادا ہو جائے گا۔
 
از قلم:مفتی  شاہد رضا مصباحی