جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ان دنوں کاریگر عالمی شہرت یافتہ کشمیری ولو سے بنے کرکٹ بیٹس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اپنی مضبوطی، بہترین توازن اور شاندار کارکردگی کے باعث یہ بیٹس دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کے جوش و خروش کے ساتھ ہی ان بیٹس کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے وادی کی روایتی صنعت کو نئی زندگی ملی ہے۔
کشمیر کرکٹ بیٹ مینوفیکچر ایسوسی ایشن کے سربراہ کبیر کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کرکٹ کی بڑھتی مقبولیت اور مختلف لیگز کے انعقاد نے صنعت پر مثبت اثر ڈالا ہے، تاہم ٹی 20 ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ نے مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت 20 ممالک کی ٹیمیں عالمی کپ میں شریک ہیں، جس کے باعث نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک سے بھی آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔
بیٹ فروش عادل نے بتایا کہ ورلڈ کپ کے دوران بچوں اور نوجوانوں میں کرکٹ کا جنون عروج پر ہوتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ بیٹ سازی کے کاروبار کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اور وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔
سیاح بھی کشمیر آ کر ولو بیٹس میں خاص دلچسپی لے رہے ہیں۔ کبیر کے مطابق کشمیر کرکٹ بیٹ سازی کا سب سے بڑا عالمی مرکز ہے، جہاں ایک ہی کلسٹر میں تقریباً 400 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ سیاح یہاں آ کر بیٹ سازی کا عمل خود دیکھتے ہیں اور بطور یادگار اپنے بچوں کے لیے بیٹس خرید کر لے جاتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ان کے گھر سے بھی کوئی نیا سچن ٹنڈولکر یا ویرات کوہلی ابھرے۔
ٹی 20 عالمی کپ کے دوران کشمیر میں تیار ہونے والے ولو کرکٹ بیٹس کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس سے وادی کی روایتی صنعت کو نیا فروغ ملا اور مقامی کاریگروں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی طلب نے وادی کشمیر میں معاشی سرگرمیوں کو تقویت دی ہے۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو روزگار میسر آ رہا ہے اور مقامی کاریگروں کی مہارت عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہی ہے۔