• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ :نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگریز جرائم کی روک تھام کا بل اسمبلی میں پیش

تلنگانہ :نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگریز جرائم کی روک تھام کا بل اسمبلی میں پیش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 30, 2026 IST

 تلنگانہ :نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگریز جرائم کی روک تھام کا بل اسمبلی میں پیش
دائیں بازو کے تنظیموں کے ذریعے حالیہ دنوں میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف نفرت آمیز تقریریں اور تشدد کے لیے اکسانے کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس قسم کی واقعات پر روک لگانے کے لیے تلنگانہ حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کے لیے تلنگانہ حکومت ایک سخت قانون لا رہی ہے، جس میں مجرموں کو لمبی جیل کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 
بتادیں کہ تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے اسمبلی میں 'تلنگانہ ہیٹ سپیچ اینڈ ہیٹ کرائمز' (پریونشن) بل 2026 پیش کر دیا ہے۔ اس بل کے تحت نفرت آمیز تقریروں اور ہیٹ کرائم سے متعلق معاملات میں زیادہ سے زیادہ 10 سال تک کی سزا کا انتظام رکھا گیا ہے۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو تلنگانہ کرناٹک کے بعد ایسا قانون نافذ کرنے والا دوسرا ریاست بن جائے گا۔
 
اس بل کو وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی طرف سے قانون ساز امور کے وزیر ڈی شری دھر بابو نے اسمبلی میں پیش کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ہیٹ سپیچ اور ہیٹ کرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت سے نمٹنے میں مکمل طور پر قادر نہیں ہیں، اس لیے ایک مضبوط اور خصوصی قانون کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
 
بل میں کیا خاص پروویژنز ہیں؟
 
اس تجویز کردہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص ہیٹ کرائم کرتا ہے تو اسے کم از کم 1 سال اور زیادہ سے زیادہ 7 سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص بار بار ایسا جرم کرتا ہے تو سزا اور بھی سخت ہو جائے گی۔ ایسے معاملات میں 2 سال سے لے کر 10 سال تک کی جیل اور 1 لاکھ روپے تک کا جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔
 
میڈيا رپورٹس کے متعلق ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بل کے تحت درج ہونے والے جرائم نان بیل ایبل (غیر ضمانتی) ہوں گے، یعنی ملزم کو آسانی سے ضمانت نہیں ملے گی۔ حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کو مکمل طور پر کور نہیں کرتا۔ اس لیے ایسے جرائم کو روکنے، کنٹرول کرنے اور سزا دینے کے لیے ایک موثر قانون ضروری ہے، ساتھ ہی متاثرین کی حفاظت اور انہیں آسانی سے انصاف ملے، یہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
 
اس بل کو تلنگانہ کابینہ نے 23 مارچ کو منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد ایسے تقریروں پر روک لگانا ہے جو فسادات اور سماجی ٹکراؤ کو فروغ دیتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کئی دائیں بازو کی تنظیموں نے اس بل کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ اس کے بعد ان تنظیموں کی نیت اور کام کرنے کے طریقے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔