Wednesday, May 06, 2026 | 18 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں بڑا سیاسی ہلچل: کانگریس حکومت کا بی آر ایس دور کے پاور پلانٹس معاہدوں کی سی بی آئی جانچ کا فیصلہ

تلنگانہ میں بڑا سیاسی ہلچل: کانگریس حکومت کا بی آر ایس دور کے پاور پلانٹس معاہدوں کی سی بی آئی جانچ کا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 05, 2026 IST

تلنگانہ میں بڑا سیاسی ہلچل: کانگریس حکومت کا بی آر ایس  دور کے پاور پلانٹس معاہدوں کی سی بی آئی جانچ کا فیصلہ
تلنگانہ کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کانگریس کی قیادت والی حکومت نے سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں بجلی خریداری کے معاہدوں اور پاور پلانٹس کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں لیا گیا۔
 
حکومت کا یہ اقدام جسٹس مدن بی لوکر کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن کی 114 صفحات پر مشتمل رپورٹ کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بدعنوانی اور عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، خاص طور پر چھتیس گڑھ کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدوں اور  بھدرادری تھرمل پاور پاور پلانٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
 
ذرائع کے مطابق، کابینہ نے ایڈوکیٹ جنرل سے قانونی مشورہ لینے کے بعد ہی CBI تحقیقات کی منظوری دی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ چونکہ اس معاملے میں بین ریاستی پہلو شامل ہیں اور کچھ مرکزی ادارے بھی اس میں فریق ہیں، اس لیے مرکزی ایجنسی کے ذریعے تحقیقات زیادہ مناسب ہوں گی۔
 
یہ ریونت ریڈی حکومت کا دوسرا بڑا قدم ہے، اس سے قبل بھی کالیشورم پروجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی CBI جانچ کا مطالبہ کیا جا چکا ہے، جس نے ریاست کی سیاست میں خاصی گرماہٹ پیدا کی تھی۔
 
کابینہ اجلاس کے بعد وزیر ریونیو پونگولیٹی سرینواس اور پونم پربھاکر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اس کیس کو CBI کے حوالے کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس فیصلے کے بعد تلنگانہ کی سیاست میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سخت بیان بازی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔