حیدرآباد میں ٹریفک مسائل کے حل کے لیے تلنگانہ حکومت نے توجہ مرکوز کردی ہے۔ تین سطحی ٹریفک ماڈل کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ جس کے تحت زیرِ زمین انڈر پاس، سڑکیں اور ایلیویٹڈ کوریڈور تعمیر کیے جائیں گے۔تلنگانہ سکریٹریٹ میں منعقدہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرس کے اجلاس میں یہ انکاف کیا گیا ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی، کمیٹی چیئرمین ،ماگُنٹہ سرنیواسولو ریڈی، ارکانِ پارلیمنٹ اور ریاستی و مرکزی حکومت کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے صرف سڑکوں کی توسیع کافی نہیں
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ صرف سڑکوں کو چوڑا کرنا مستقبل کے ٹریفک مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔اسی لیے حکومت حیدرآباد کو سگنل فری شہر بنانے اور مربوط شہری ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد شہر میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف سڑکوں کی توسیع کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدیدیت اور شہری کاری کے ساتھ مستقبل میں مزید نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مطابق انفراسٹرکچر تیار کریں۔
ملٹی ٹرانسپورٹ سسٹم تیار کرنے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ وہ حیدرآباد کو سگنل فری سٹی بنانے کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈر پاس اور سرفیس ایلیویٹڈ کا تھری لیول سسٹم لایا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملٹی ٹرانسپورٹ سسٹم تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پارکنگ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ملٹی لیول پارکنگ قائم کی جا رہی ہے۔
ترقی کو تین حصوں میں تقسیم کیا
انہوں نے کہا کہ ترقی کو کیور، پیور اور ریر(Cure, Pure, and Rare) کے طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ کیور ایریا کو سروس سیکٹر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ORR(اوٹر رنگ روڈ) کے باہر اور RRR (ریجنل رنگ روڈ ) کے اندر پیور علاقے کی شناخت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے طور پر کی گئی ہے اور (ریجنل رنگ روڈ )RRR سے باہر نایاب علاقے کو زرعی شعبے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی جامع ترقی کے لئے تلنگانہ رائزنگ-2047 ماسٹر پلان کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔