Tuesday, April 21, 2026 | 03 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین نےدی 22اپریل سےہڑتال کی کال۔ مذاکرات کرنے حکومت کا زور

تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین نےدی 22اپریل سےہڑتال کی کال۔ مذاکرات کرنے حکومت کا زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 14, 2026 IST

تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین نےدی 22اپریل سےہڑتال کی کال۔ مذاکرات  کرنے حکومت کا زور
تلنگانہ میں عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے، جہاں تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی) کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں 22 اپریل سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ریاستی حکومت اور ملازمین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

 بات چیت کےذریعہ مسائل کو حل کرنے حکومت کا زور 

ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے منگل کے روز ایک بیان میں آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور ملازمین کے بیشتر مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ٹی سی کے سرکاری انضمام اور ٹریڈ یونین سے متعلق امور حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جن پر فوری بات چیت ممکن نہیں۔

13 مارچ کو دیا گیا نوٹس 

دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 13 مارچ کو باضابطہ نوٹس دیا تھا، مگر حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جے اے سی کے چیئرمین تھامس ریڈی کے مطابق ملازمین نے مجموعی طور پر 32 مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں آر ٹی سی کا حکومت میں انضمام، تنخواہوں اور مراعات کو سرکاری ملازمین کے برابر کرنا، پے ریویژن کمیشن (پی آر سی) کا نفاذ، واجبات کی ادائیگی اور ملازمت کے تحفظ جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

 حکومت ملازمین کی فلاح وبہبود کےلئے پرعزم 

وزیر ٹرانسپورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ملازمین کے لیے 2.1 فیصد ڈیئرنس الاؤنس (ڈی اے) نافذ کیا ہے اور اس مد میں کوئی بقایا جات باقی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پی آر سی کے معاملے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔

آرٹی سی  کی مالی حالت ہوئی بہتر

پونم پربھاکر نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی "مہالکشمی" اسکیم کے تحت خواتین کے لیے مفت بس سفر کی سہولت فراہم کی، جس سے آر ٹی سی کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ ان کے مطابق اس وقت 90 سے زائد ڈپو منافع میں چل رہے ہیں، جبکہ ادارے کی مالی حالت میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) کے بقایا جات کو 1205 کروڑ روپے سے کم کر کے 600 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ سی سی ایس واجبات بھی نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔مزید برآں حکومت نے اب تک 2,978 نئی بسیں شامل کی ہیں اور 1,134 افراد کو ہمدردی کی بنیاد پر ملازمتیں دی گئی ہیں۔ نئے ملازمین کی بھرتی کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے اور وہ جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

 وعدے پورا نہیں کرنے کا الزام 

ادھر جے اے سی کا کہنا ہے کہ حکومت نے انتخابی وعدوں کو پورا نہیں کیا اور بارہا مذاکرات کے باوجود کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ عوام کو ممکنہ مشکلات سے بچایا جا سکے۔اگر ہڑتال پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ریاست بھر میں 9 ہزار سے زائد بسیں سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی، جس سے روزانہ سفر کرنے والے تقریباً 60 لاکھ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں۔

ہڑتال سے ریاستی ٹرانسپورٹ نظام ہوسکتا ہے مفلوج 

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال حکومت اور ملازمین دونوں کے لیے ایک امتحان ہے، جہاں ایک طرف عوامی سہولت کو برقرار رکھنا ضروری ہے، تو دوسری جانب ملازمین کے جائز مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں فریق بات چیت کے ذریعے کسی حل تک پہنچ پاتے ہیں یا ہڑتال ریاستی ٹرانسپورٹ نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔