خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو بلاسودی قرض
حکومت 10 لاکھ روپے تک کے قرض پرسود برداشت کرے گی
مالی سال 2025-26 میں 25,228 کروڑ روپےکے بینک قرض
تلنگانہ حکومت نے خواتین کے خود امدادی گروپوں (سیلف ہیلپ گروپس) کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بلاسود قرض کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ریاستی وزیر سیتا اکا نے کہا کہ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی جانب سے حاصل کیے جانے والے 10 لاکھ روپے تک کے قرض پر سود کی مکمل ادائیگی حکومت خود برداشت کرے گی۔
یہ اعلان آج پرجا بھون میں خواتین کے خود امدادی گروپوں کے لیے بینکوں کی سالانہ قرضہ جاتی منصوبہ بندی پروگرام کے اجرا کے موقع پر کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سیتا اکا نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین اراکین کو 25 ہزار 228.89 کروڑ روپے کے بینک قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے گروپوں کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے حکومت 2 ہزار 500 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔وزیر سیتا اکا نے کہا کہ حکومت ’’خواتین کی ترقی، تلنگانہ کی ترقی‘‘ کے نعرے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو غربت سے باہر نکالے بغیر ریاست کی مکمل ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی بنانے کے عزم کے ساتھ مختلف فلاحی اور معاشی ترقیاتی پروگرام نافذ کر رہی ہے۔
تلنگانہ میں سیلف ہیلپ گروپس (SHGs)، جنہیں اکثر "خواتین تنظیموں" کے طور پر جانا جاتا ہے، دیہی اور شہری علاقوں میں خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان گروپس کو حکومت اور نبارڈ (NABARD) کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
خواتین کو خود مکتفی (Self-reliant) بنانا اور سماج میں ان کی معاشی حیثیت کو بہتر بنانا۔
عام طور پر، ایک گروپ میں 10 سے 20 مقامی افراد (خواتین) شامل ہوتے ہیں۔
تلنگانہ حکومت، خاص طور پر بلدیاتی سطح پر، نئے سیلف ہیلپ گروپس کے قیام کو ترجیح دے رہی ہے۔
نبارڈ اور دیگر مالیاتی ادارے ان گروپس کو مائیکرو کریڈٹ (Micro-credit) اور مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔
یہ گروپس خواتین کو بچت کرنے اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جو دیہی ترقی میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔