Friday, March 20, 2026 | 30 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • آبنائے ہرمز کے لیے ٹرمپ کی منصوبہ بندی کو جھٹکا؟ آسٹریلیا سمیت ان ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے سے کیاانکار

آبنائے ہرمز کے لیے ٹرمپ کی منصوبہ بندی کو جھٹکا؟ آسٹریلیا سمیت ان ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے سے کیاانکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 16, 2026 IST

آبنائے ہرمز کے لیے ٹرمپ کی منصوبہ بندی کو جھٹکا؟ آسٹریلیا سمیت ان ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے سے کیاانکار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے لیے تیار کی گئی منصوبہ بندی کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے کئی ممالک سے اپنے جنگی جہاز تعینات کرنے کی اپیل کی تھی، جسے آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔ کچھ امریکی اتحادی ممالک نے محتاط ردعمل دیا ہے، جبکہ کئی نے براہ راست انکار کر دیا ہے۔
 
ٹرمپ نے کیا تھا درخواست؟
 
پچھلے دنوں امریکی اخبارات نے رپورٹ شائع کی تھی کہ صدر ٹرمپ تیل کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کے لیے اپنے اتحادیوں سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر دوسرے ممالک بھی ہمارے ساتھ نگرانی کریں تو اچھا ہوگا، ہم مدد کریں گے۔ ہمیں اچھا ردعمل مل رہا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سا ملک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اس چھوٹی سی کوشش میں ہماری مدد نہیں کرے گا۔
 
آسٹریلیا نے ٹرمپ کی درخواست پر کیا کہا؟
 
آسٹریلیا کی کابینہ کی وزیر کیتھرین کنگ نے اے بی سی کو بتایا کہ اگرچہ آبنائے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کینبرا کو نہ تو جہاز بھیجنے کے لیے کہا گیا ہے اور نہ ہی وہ فی الحال ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم آبنائے ہرمز میں کوئی بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔ ہم اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ ایسا کچھ نہیں ہے جس کے لیے ہم سے کہا گیا ہے، اور نہ ہی یہ کوئی ایسا اقدام ہے جس میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
 
جاپان اور جنوبی کوریا نے کیا کہا؟
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جاپان معاملے میں تحمل سے کام لے رہا ہے اور اس سطح پر سمندری سیکیورٹی آپریشنز پر غور نہیں کر رہا۔ جاپان نے تصدیق کی ہے کہ ایسکورٹ جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اور جاپان کے قانونی فریم ورک کے اندر اختیارات کی ابھی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ وہ کوئی بھی قدم احتیاط سے جائزہ لینے کے بعد اٹھائے گا اور واشنگٹن سے مشاورت کرے گا۔
 
برطانیہ اور کینیڈا بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں
 
برطانیہ نے معاملے پر براہ راست کچھ نہیں کہا۔ وہ سفارتی موقف اپنا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کیر سٹارمر نے ٹرمپ کے ساتھ آبنائے کو کھولنے کی ضرورت پر بات چیت کی ہے تاکہ عالمی شپنگ میں خلل کم ہو۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوهان واڈیفول نے بتایا کہ برلن اس مشن میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے ابھی تک معاملے میں کوئی واضح موقف پیش نہیں کیا ہے۔ امریکی حکام اتحادیوں سے بات چیت میں مصروف ہیں۔