Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • امریکہ کا وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل پر کنٹرول، ٹرمپ نےکیا بڑے معاہدے کا اعلان

امریکہ کا وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل پر کنٹرول، ٹرمپ نےکیا بڑے معاہدے کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 29, 2026 IST

امریکہ کا وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل پر کنٹرول، ٹرمپ  نےکیا بڑے معاہدے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ، 28 اگست کو اعلان کیا کہ امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے تیل کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے، امریکہ وینزویلا کے تیل کے تقریباً 65 ارب بیرل سے زیادہ ذخائر میں زیادہ حصہ اور زیادہ اختیار حاصل کرے گا۔ٹرمپ نے اسے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکی حکومت اور نجی کمپنیوں کی شراکت کے ذریعے کیا گیا ہے اور اس پر امریکی ٹیکس دہندگان پر براہ راست مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔  معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، جن میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کن تیل کے ذخائر یا منصوبوں پر امریکہ کا کنٹرول ہوگا۔

معاہدے میں اہم امریکی حکام کا کردار

ٹرمپ نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگز کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر کام کیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکہ کے تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملک میں تیل کی فراہمی بڑھنے سے مستقبل میں پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے اثرات فوری طور پر سامنے آنا ضروری نہیں کیونکہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ملک میں تقریباً 303 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے کل ثابت شدہ ذخائر کا تقریباً 17 فیصد ہیں۔ اس کے باوجود وینزویلا اپنی تیل کی صلاحیت کے مطابق پیداوار نہیں کر پا رہا۔ پرانے بنیادی ڈھانچے، کم سرمایہ کاری اور دیگر مسائل کی وجہ سے ملک کی تیل کی پیداوار اس کی مجموعی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ 
 

وینزویلا کو تقریباً 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدنی ملنے کی توقع

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق اس منصوبے سے وینزویلا کے خزانے کو تقریباً 209 ارب ڈالر کی ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
 

تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کا دعویٰ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اس سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی اور وینزویلا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرمایہ کاری کب اور کس طریقے سے کی جائے گی۔ امریکی حکومت نے معاہدے کی تمام شرائط بھی عوام کے سامنے نہیں رکھی ہیں۔تازہ رپورٹس کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد وینزویلا کے تیل کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنا اور پرانے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔
 

معاہدے میں 17 تیل کے میدان شامل ہونے کی تفصیل

تازہ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ صرف عمومی طور پر 65 ارب بیرل کے ذخائر کے کنٹرول تک محدود نہیں ہے۔ معاہدے کے تحت 17 تیل کے میدانوں کو ترقی دینے کے لیے ایک نئی نجی کمپنی بنانے کا منصوبہ بتایا گیا ہے۔ اس کمپنی میں امریکی فریق کا تقریباً 55 فیصد آپریشنل حصہ ہوگا۔
 

معاہدے کی مکمل شرائط ابھی سامنے نہیں آئیں

امریکی حکومت نے ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ خاص طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 65 ارب بیرل کے ذخائر میں سے کن مخصوص ذخائر یا تیل کے میدانوں پر امریکی کنٹرول ہوگا اور تیل کی پیداوار کون کرے گا۔
 

معاہدے پر وینزویلا میں سوالات

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابق صدرنکولس مادورو کو جنوری میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد امریکہ نے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی کمپنیوں کی واپسی اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کے بعض اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک کے قدرتی وسائل پر بیرونی کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس وقت معاہدے کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے، خاص طور پر یہ کہ امریکہ کو حاصل ہونے والے "اکثریتی کنٹرول" کی عملی شکل کیا ہوگی اور اس سے وینزویلا کی تیل کی پیداوار اور عالمی تیل کی قیمتوں پر کتنا اثر پڑے گا۔
 

ایک اہم قانونی سوال بھی موجود ہے

تازہ تجزیوں" David Goldwyn" میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وینزویلا کے موجودہ قانونی اور آئینی نظام کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو تیل کے شعبے میں اتنا بڑا حصہ دینا کس حد تک ممکن ہوگا۔ اس لیے معاہدے کی عملی شکل اور قانونی حیثیت پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔