Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ہندوستان کے انتخابی نظام کی ٹرمپ نے کی تعریف، امریکی ووٹر آئی ڈی قانون کے لیے ہندوستان کو بنایا مثال

ہندوستان کے انتخابی نظام کی ٹرمپ نے کی تعریف، امریکی ووٹر آئی ڈی قانون کے لیے ہندوستان کو بنایا مثال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

ہندوستان کے انتخابی نظام کی ٹرمپ نے کی تعریف، امریکی ووٹر آئی ڈی قانون کے لیے ہندوستان کو بنایا مثال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان کے انتخابی نظام کی مثال دیتے ہوئے امریکہ میں ووٹرز کے لیے شناختی کارڈ لازمی قرار دینے کی، اپنی مہم کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی ہے۔ گیانیش کمار نے امریکی انتظامیہ سے پوچھا تھا کہ امریکہ میں درست تصویری شناختی کارڈ کے بغیر انتخابات کیسے کرائے جاتے ہیں؟ ٹرمپ نے کہا کہ ہندوستان میں کروڑوں لوگوں نے ووٹ دیا، لیکن بہت کم لوگوں نے پوسٹل ووٹ کے ذریعے ووٹ ڈالا اور ووٹ ڈالنے کے لیے شناختی دستاویز ضروری تھی۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی ووٹنگ کے وقت ایسی شناخت لازمی ہو۔
 

ٹرمپ نے ہندوستان کی مثال کیوں دی؟

ٹرمپ نے ہندوستان کے انتخابی نظام کی مثال امریکہ میں مجوزہ قانون سیف گارڈ امریکن ووٹر اہلیجیبلٹی ایکٹ، یعنی "SAVE America Act"، کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت وفاقی انتخابات میں ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونے والے افراد کو امریکی شہریت کا ثبوت اور درست شناختی دستاویز فراہم کرنا ہوگا ۔ قانون میں پورے امریکہ میں ووٹر شناخت کی شرط کو مضبوط بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے انتخابی دھاندلی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔  اس قانون پر امریکہ میں سیاسی اختلاف پایا جاتا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان اس کے مختلف حصوں پر الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔
 

امریکی سفیر نے بھی ٹرمپ کی حمایت کی

ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے آخری عام انتخابات میں تقریباً 64 کروڑ 60 لاکھ ووٹرز نے حصہ لیا اور ووٹ ڈالنے کے لیے شناختی کارڈ کی ضرورت تھی۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے "SAVE America Act" منظور کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
 

SAVE America Act کیا ہے؟

"SAVE America Act" امریکہ  کے انتخابی نظام میں کئی تبدیلیاں کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت وفاقی انتخابات میں ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے وقت امریکی شہریت کا ثبوت اور درست شناختی دستاویز پیش کرنا ضروری ہوگا۔ مجوزہ قانون میں پوسٹل ووٹ کے ذریعے ووٹنگ پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے۔ بیمار افراد، معذور افراد، فوج میں خدمات انجام دینے والے لوگوں اور سفر کرنے والوں کے لیے کچھ خصوصی صورتیں رکھی گئی ہیں۔ اس قانون میں ریاستوں کو ووٹر فہرستوں کی جانچ کرنے اورغیرامریکی شہریوں کو ان فہرستوں سے ہٹانے کے اقدامات کرنے کی ذمہ داری دینے کی بھی تجویز ہے۔
 

وائٹ ہاؤس کا مؤقف کیا ہے؟

وائٹ ہاؤس نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ  کے وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف امریکی شہریوں کو ہونا چاہیے۔
ٹرمپ انتظامیہ نےہندوستان اور برازیل جیسے ممالک کا بھی حوالہ دیا ہے، جہاں شناخت کے نظام کو انتخابی عمل کے ساتھ جوڑنے کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ملک بھر میں ووٹر شناخت کے یکساں تقاضے نسبتاً محدود ہیں۔ یہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس پر مزید کاروائی بھی ابھی باقی ہے۔ ٹرمپ مسلسل اس قانون کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ووٹر شناخت کی سخت شرائط اور شہریت کی تصدیق سے امریکی انتخابات میں دھاندلی کے خدشات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
 
"SAVE America Act "امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، لیکن سینیٹ (Senate) میں ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ حال ہی میں پانچ ہفتوں کی تعطیلات پر چلا گیا اور اس قانون کی منظوری کے لیے کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس لیے ٹرمپ اب دوبارہ اس قانون کو منظور کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
 
آج ہی کی ایک رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹرمپ نے خود 13 اگست کو فلوریڈا کے ریپبلکن پرائمری انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یہ کم از کم تیسری بار ہے کہ ٹرمپ نے میل بیلٹ استعمال کیا۔