بلوچ باغی گروپ نے پاکستان کے بلوچستان صوبے میں پاکستانی آرمی اور آئی ایس آئی کو شدید نقصان پہنچانے والی دو بلوچ خاتون لڑاکوں کی تصاویر جاری کیں۔ دونوں خواتین بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی رکن تھیں، جو ہفتہ کو فدائی حملوں کے دوران ماری گئیں۔
پاکستانی فوج سے ظلم کا حساب :
بی ایل اے نے کہا کہ دونوں خواتون سمیت 11 لڑاکوں نے پاکستانی فوج سے ظلم کا حساب لیا۔ اس دوران تقریباً 100 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آپریشن ہیروف فیز 2 گزشتہ 40 گھنٹوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔ بی ایل اے نے کئی شہری اور دیہی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ میڈیا کے ساتھ شیئر کی گئی معلومات میں بی ایل اے نے کہا کہ آپریشن بلوچستان صوبے کے ایک بڑے جغرافیائی علاقے میں پھیل گیا ہے۔
بی ایل اے نے اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے گوادر میں جھڑپوں کے دوران ریکارڈ کیا گیا ایک ویڈیو جاری کیا۔ جس میں ایک خاتون 'فدائی' لڑاکے کی شناخت کی گئی۔ بی ایل اے نے کہا کہ خاتون لڑاکا پاکستانی فوج سے جنگ لڑتے ہوئے ماری کئی۔ بی ایل اے نے خاتون لڑاکا کی شناخت حوا بلوچ کے طور پر کی۔
حوا بلوچ ایک مصنفہ تھیں۔


ڈی بلوچستان پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ حوا بلوچ ایک مصنفہ تھیں۔ اس کے والد پہلے بلوچ مسلح تحریک میں شامل تھے اور کئی سال قبل لڑائی میں مارے گئے تھے۔ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں حوا بلوچ کو بلوچ خواتین سے مسلح مزاحمت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
آصف مینگل نے آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا:
انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی ریاست نے مردوں کے ساتھ ساتھ بلوچ خواتین پر بھی ظلم کیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ بلوچ معاشرے میں خواتین نہ تو فکری طور پر کمزور ہیں اور نہ ہی عملی طور پر۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین اٹھیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔ بی ایل اے نے ایک اور خاتون فدائین کی شناخت 23 سالہ آصفہ مینگل کے نام سے کی۔ بی ایل اے نے کہا کہ اس نے 31 جنوری کو نوشکی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا اور اسے بھی اپنی جان گنوانی پڑی۔
200 سے زائد فوجی مارے گئے۔
بی ایل اے کے دعووں کے مطابق، حملوں کے دوران پاکستان آرمی، پولیس اور فرنٹیئر کورز کے 200 سے زائد جوان ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم 17 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بی ایل اے نے کہا کہ اس نے نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریا شامو کو حراست میں لیا تھا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا۔
پاکستانی حکام نے دعووں کو کیا مسترد:
یہ دعوے بی ایل اے کی جانب سے "آپریشن ہیروف فیز 2" (کالا طوفان) کے تحت کیے گئے ہیں، جس میں صوبے بھر میں سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام نے بی ایل اے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائیوں میں 145 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکار جاں بحق ہوئے اور 31 شہری ہلاک ہوئے۔ بی ایل اے نے خواتین فدائیوں کو اجاگر کرکے پروپیگنڈا پھیلایا ہے کہ بلوچ جدوجہد میں خواتین بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔