اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی ایشیا میں نئے سرے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کریں۔ انھوں نے دونوں فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے پہلے سے ہی غیرمستحکم صورتحال کو مزید ہوا دے سکے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ لبنان، ایران اور غزہ میں جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکے۔
سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیل کی طرف سےغزہ میں کراسنگ بند کرنے کے فیصلے پر سیکرٹری جنرل کو بھی گہری تشویش ہے۔ وہ غزہ بھر میں انسانی امداد کی تیز رفتار، محفوظ اور بلا روک ٹوک گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے تمام کراسنگ کو فوری طور پر کھولنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔" سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا۔
انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری حقوق اور آزادیوں کے استعمال کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔"سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطی میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہے۔ اس لیے وہ تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے سفارتی حل کے لیے کام کریں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کو آگے بڑھا سکیں،" حق نے بیان میں کہا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کا یہ بیان پیر کو ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تبادلوں کے بعد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔پیر کے روز، اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ اس نے ایران کے علاقے مہشہر میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر "کئی
اہداف" کو نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس کی فضائی افواج نے پیر کی صبح خلیجی ملک کے خلاف اسرائیل کے حملوں کے جواب میں دو "اہم اور اسٹریٹجک" اسرائیلی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اپنے سرکاری خبر رساں ادارے، سیپاہ نیوز پر ایک بیان میں، آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے اسرائیل کے نیواتیم اور تل نوف ایئر بیس کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے تین ایرانی مقامات پر کئی راڈار سائٹس پر میزائل حملے کیے گئے۔آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ اس کی تمام جنگی اور آپریشنل یونٹس تمام محاذوں پر آپریشن کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ایجنسی نے نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کی صبح تہران اور دو دیگر صوبوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دھماکہ تہران کے مغرب میں، دو وسطی صوبے اصفہان میں اور ایک شمال مغربی مشرقی آذربائیجان صوبے کے صدر مقام تبریز کے قریب سنا گیا۔
بعد ازاں دن میں،اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملہ فی الحال "ہولڈ" ہے، لیکن خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے حملے دوبارہ شروع کیے تو اسرائیل بھرپور جواب دے گا۔ نیتن یاہو نے اتوار کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے 20 گھنٹے سے زائد عرصے کے بعد اپنے پہلے ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ "اس وقت آگ پر قابو ہے کیونکہ اس کے بعد، اس نے (ایران) ہم پر حملہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے "ہم پر دوبارہ حملہ کرنے کی غلطی کی تو ہم طاقت سے جواب دیں گے۔" نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے فوج کو پیر کو پورے ایران میں فوجی اور اقتصادی اہداف پر حملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
دریں اثنا، ایران کی مرکزی فوجی کمان، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر نے اسرائیل کے خلاف ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں کو روکنے کا اعلان کیا، نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ ایک بیان میں، ہیڈ کوارٹر نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی مزید "جارحیت اور بدنیتی پر مبنی کارروائیاں، بشمول جنوبی لبنان میں، بہت زیادہ "شدید اور کچلنے والے" ردعمل کو جنم دے گی۔