امریکہ سے جنگ بندی اور جامع معاہدے پر بات چیت کے لیے ایران کا ایک اعلیٰ سطح وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ اس وفد میں 71 ارکان شامل ہیں جن کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ٹیم میں ماہر مشیران، میڈیا نمائندے، سفارت کار اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچنے والا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی اس اہم بات چیت پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔
دونوں ممالک کے وفود میں کون-کون شامل ہے؟
ایرانی وفد میں سیکورٹی، سیاسی، فوجی، اقتصادی اور قانونی شعبوں سمیت کئی اہم شعبوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ وفد مجوزہ بات چیت کے وسیع دائرہ کار اور اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی شامل ہیں۔ ایران کی دفاعی کونسل کے سیکرٹری علی اکبر احمدیان؛ اور ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے کئی ارکان بھی دورہ کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔
جبکہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس ،خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف، سینئر مشیر جیرڈ کشنر اور فوجی اہلکار بریڈ کوپر شامل ہیں۔
اسلام آباد کی صورتحال:
وفود کی آمد پر اسلام آباد میں سخت سکیورٹی، لاک ڈاؤن جیسے حالات ہیں۔بات چیت سے پہلے پورے اسلام آباد کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سکول اور مارکیٹیں بند ہیں، شہر میں دو دن کی سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ صدر اور وزیر اعظم کے علاقے، پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفارت خانوں والا پورا علاقہ سیل کر دیا گیا ہے۔ وفود کی آمدورفت، قیام اور میٹنگ کے دوران VVIP پروٹوکول کے تحت سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کن موضوعات پر ہوگی بحث؟
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں اہم مسائل زیر بحث آئیں گے جن میں ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام،ہرمز آبنائے میں جہازوں کی آزاد اور محفوظ آمدورفت، ایران پر عائد تمام پابندیاں ہٹانا اور منجمد اثاثے واپس کرنا۔