عید الفطر کا تہوار عام طور پر خوشیوں، گلے ملنے اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتا ہے، لیکن دارالحکومت دہلی کے اُتّم نگر علاقے میں اس بار عید سے قبل تناؤ کا ماحول بنا رہا،ہندو تنظیموں نے کئی متنازع دھمکیاں دی تھی عید کو لیکر،جس کی وجہ سے علاقے میں سنگین صورتحال بنی ہوئی تھی۔تاہم امن اور سادگی سے عید منائی گئی۔
حال ہی میں ہولی پر ہوئے ایک تنازع نے نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہندوتوا تنظیموں کی دھمکیوں کے پیش نظر اُتّم نگر کے ہستسال گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔ دہلی پولیس اور پیراملٹری فورس کے جوان بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ علاقے کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر بیرکیڈنگ کی گئی ہے اور آنے جانے والے ہر شخص کی سخت شناخت چیک کی جا رہی ہے۔
پولیس افسران کے مطابق، کچھ خاص علاقوں میں صرف مقامی رہائشیوں کو ہی چیک کے بعد انٹری کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ باہر کے لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں مسلسل گشت کر رہی ہیں اور چھتوں، تنگ گلیوں اور حساس مقامات پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے پورے علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تہوار کو پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے سیکورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی فورس بھی تعینات کی جا سکتی ہے۔ ان سخت انتظامات کے درمیان مقامی لوگ عید کی نماز ادا کر رہے ہیں، لیکن جشن اس بار کافی محدود اور سادہ ہے۔ عام طور پر جہاں عید پر رونق اور ہجوم نظر آتا ہے، وہیں اس بار ماحول قدرے سنبھلا اور محدود دکھائی دے رہا ہے۔
دراصل، 4 مارچ کو ہولی کے دن جے جے کالونی میں دو پڑوسی خاندانوں کے درمیان تنازع ہو گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایک خاندان کی لڑکی کی طرف سے پھینکا گیا پانی سے بھرا غبارہ غلطی سے دوسرے خاندان کی خاتون کو لگ گیا، جس کے بعد دونوں فریقوں میں جھگڑا بڑھ گیا۔ اس جھڑپ میں 26 سالہ ترن شدید زخمی ہو گیا تھا، جس کی بعد میں موت ہو گئی۔
اس واقعے کے بعد ہندوتوا تنظیموں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر خوب ہنگامہ کیا، اس دوران ملزمان سے منسلک دو گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی تھی۔ پولیس نے کیس میں کئی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ انتظامیہ سوشل میڈیا پر بھی سخت نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی قسم کی افواہ یا بھڑکاؤ والا مواد پھیلنے سے روکا جا سکے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد علاقے میں امن برقرار رکھنا اور تہوار کو محفوظ ماحول میں مکمل کروانا ہے۔