اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں جہیز کیلئے 26 سالہ نکی کے قتل کیس کے تیسرے ملزم کو بھی گرفتار کرلیاگیا۔ پولیس نے بتایاکہ آج اس کیس کے تیسرے ملزم گرفتار کرلیاگیا۔ واضح رہےکہ مرکزی ملزم اور شوہر وپن بھاٹی کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزم وپن کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ نکی قتل کیس میں اس کی ساس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
جہیز قتل کیس کے مرکزی ملزم وپن بھاٹی نے اتوار کو حراست سے فرار ہونے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس مقابلے میں اسے ٹانگ میں گولی مار دی گئی۔ اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ مقتولہ نکی کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ 2016 میں اس کی شادی کے بعد سے اسے 36 لاکھ روپے کے جہیز کے مطالبے پر ہراساں کیا جا رہا تھا جبکہ انہوں نے نکی کے سسرال والوں کا اسکارپیو گاڑی اور موٹر سائیکل کا مطالبہ بھی پورا کر دیا تھا۔
واقعہ کی پریشان کن ویڈیوز اور نکی کے بیٹے اور بہن کی گواہی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ملزم شوہر وپن بھاٹی اور ایک اور خاتون نے نکی پر حملہ کیا اور اسے بالوں سے گھسیٹا۔واضح رہے کہ نکی جمعرات کی رات اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔ اس دوران نکی کے والد نے کہاکہ میں خاندان کے خلاف سخت کارروائی اور انکاؤنٹر چاہتا ہوں۔ یہاں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے اس لئے ان کے گھر پر بھی بلڈوزر چلانا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم بھوک ہڑتال کریں گے۔
نکی کی ساس دیا بھاٹی گرفتار:
نکی کی ساس دیوتی بھاٹی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ واقعے کے بعد سے مفرور تھی اور متاثرہ خاندان کی ایف آئی آر میں اس کا نام درج تھا۔ خاندان کے دیگر افراد تاحال فرار ہیں۔ نکی کے والد نے بتایا کہ نکی اور اس کی بہن کنچن کی شادی سال 2016 میں وپن اور روہت بھاٹی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد سے ہی دونوں بہنوں کو جہیز کے لیے ہراساں کیا جا رہا تھا۔
جہیز کے لیے ہراساں کرنے کا الزام:
اسکارپیو اور بلٹ بائیک دینے کے بعد بھی 36 لاکھ روپے مانگے جا رہے تھے۔ کئی بار پنچایتیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ نکی کے والد نے کہا کہ میں اس خاندان کے خلاف سخت کارروائی چاہتا ہوں، یہ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے، ان کے گھر پر بھی بلڈوزر چلنا چاہیے، اگر ایسا نہیں ہوا تو ہم بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ نکی کی والدہ نے بھی پورے خاندان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔