Friday, May 22, 2026 | 04 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مغربی بنگال :گائے کی قربانی پر پابندی کے خلاف ایم ایل اے ہمایوں کبیر کا متنازع بیان

مغربی بنگال :گائے کی قربانی پر پابندی کے خلاف ایم ایل اے ہمایوں کبیر کا متنازع بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 21, 2026 IST

مغربی بنگال :گائے کی قربانی  پر پابندی کے خلاف ایم ایل اے ہمایوں کبیر کا متنازع بیان
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کی تشکیل اور وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کے چارج سنبھالنے کے بعد سے ریاست میں یکے بعد دیگرے کئی بڑے اور سخت فیصلے لیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ریاستی حکومت نے بقرعید (عید الاضحیٰ) کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں، جس کے تحت گائے کی قربانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد ریاست میں مسلمانوں نے خود گائے کی قربانی سے خود کو دور کر لیا ہے،مگر اس فیصلہ سے  سب سے بڑا نقصان ان ہندوں تاجروں کاہوا ہے ،جنکا ذریعہ ہی گائے بیچنا ہے۔جنہوں نے کھل کر حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔
 
وہیں اس دوران مرشد آباد سے ایم ایل اے (MLA) اور آل انڈیا آل یونین پارٹی (AJUP) کے قومی صدر ہمایوں کبیر نے ایک انتہائی متنازع بیان دے کر سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ مرشد آباد میں "نئی بابری مسجد" تعمیر کروانے والے ہمایوں کبیر نے سویندو حکومت کو براہِ راست دھمکی دی ہے۔
 
آگ سے مت کھیلو: ہمایوں کبیر کی وزیر اعلیٰ کو دھمکی
 
وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کو براہِ راست چیلنج کرتے ہوئے ہمایوں کبیر نے کہا،میں سویندو ادھیکاری سے صاف طور پر کہہ رہا ہوں، آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر انہوں نے قربانی پر پابندی لگانے کی کوشش کی، تو اس سے خود ان کے لیے سنگین مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ قربانی کے معاملے میں مسلم برادری کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بقرعید پر گائے کی قربانی ضرور ہوگی، چاہے سویندو حکومت کچھ بھی کر لے۔
 
ہمایوں کبیر نے بقرعید کے دوران بیف (بڑے کے گوشت) کے بائیکاٹ اور ریاست میں نماز کی ادائیگی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے جاری کردہ دیگر ہدایات پر بھی شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت بند نہ کی گئی، تو ریاست کا امن و امان بگڑ سکتا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
 
مسلم تنظیموں کی ہمایوں کبیر کو حمایت:
 
ہمایوں کبیر کے اس سخت موقف کے بعد بنگال کی کئی مسلم تنظیمیں کھل کر ان کی حمایت میں آ گئی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔کسی بھی کمیونٹی کے جذبات کو نقصان پہنچانا صحیح نہیں ہے۔ہندو برادری کے درمیان گائے ایک ماں کے مانندہے،اس لیے انکی  جذبات کا قدر کرتے ہوئے گائے کی قربانی نہیں دی جانی چاہیے ۔
 
کون ہیں ہمایوں کبیر؟
 
ہمایوں کبیر مغربی بنگال کی سیاست کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں اور انہیں اکثر پارٹیاں بدلنے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔وہ طویل عرصے تک کانگریس سے وابستہ رہے، جس کے بعد انہوں نے ترنمول کانگریس (TMC) کا رخ کیا۔2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل انہوں نے بی جے پی جوائن کی اور مرشد آباد سیٹ سے الیکشن لڑا، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں وہ دوبارہ ٹی ایم سی میں گئے اور اب اپنی الگ پارٹی (AJUP) بنا کر اسی کے نشان پر ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں۔
 
ہمایوں کبیر اس وقت ملک بھر میں سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے مرشد آباد میں "نئی بابری مسجد" کے سنگِ بنیاد  کے لیے جان بوجھ کر 6 دسمبر کی تاریخ کا انتخاب کیا تھا۔