کولکتہ: مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تاریخی جیت اور خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی شکست کے بعد ترنمول کانگریس کے اندرونی حالات کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ بدھ کے روز ممتا بنرجی کی جانب سے طلب کی گئی نو منتخب اراکینِ اسمبلی کی اہم اسٹریٹجک میٹنگ سے 10 اراکین غائب رہے، جس نے پارٹی میں ممکنہ بغاوت کی افواہوں کو ہوا دے دی ہے۔رپورٹس کے مطابق، پارٹی کے کل 80 نو منتخب اراکین میں سے صرف 70 نے اس اجلاس میں شرکت کی۔
ٹی ایم سی (TMC) کی وضاحت:
اراکینِ اسمبلی کی غیر حاضری پر پارٹی نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا میں لگائی جانے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ پارٹی کے مطابق: غیر حاضر رہنے والے تمام اراکین نے پہلے سے اطلاع دے دی تھی۔ شمالی بنگال کے بعض اراکین کو خود پارٹی کی طرف سے میٹنگ میں نہ آنے کے لیے کہا گیا تھا۔ساگردیگھی کے رکنِ اسمبلی خاندانی طبی ایمرجنسی اور بیر بھوم کی رکنِ اسمبلی کاجل کو علاقے میں تشدد کی صورتحال کی وجہ سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔
شکست کی وجوہات اور مستقبل کی حکمت عملی:
کولکتہ میں ممتا بنرجی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس اجلاس میں جنرل سیکرٹری ابھیشیک بنرجی بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں پارٹی کی شکست پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور ہوا۔ پارٹی ترجمان کنال گھوش نے واضح کیا کہ تمام اہم فیصلے ممتا بنرجی ہی کریں گی۔ انہوں نے بی جے پی کی جیت کو 'غیر منصفانہ' قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل میں دھاندلی کا الزام بھی دہرایا۔
پارٹی کے اندر سے اٹھتی مخالفت کی آوازیں:
انتخابی نتائج کے بعد ٹی ایم سی کے اندر سے اب سینئر قیادت پر تنقید شروع ہو گئی ہے:سابق وزیر اور کرکٹر منوج تیواری نے اروند بسواس پر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔متعدد رہنماؤں بشمول ریجو دتا اور اتین گھوش نے پارٹی کی ناکامی کے لیے ابھیشیک بنرجی کے پولیٹیکل مینجمنٹ اسٹائل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اگرچہ پارٹی ان بیانات کو رہنماؤں کی ذاتی رائے قرار دے رہی ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ممتا بنرجی کی اپنی شکست کے بعد پارٹی پر ان کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے، جو ٹی ایم سی کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔