Thursday, April 09, 2026 | 20 شوال 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • آسام، کیرالہ اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات میں اس بار کیا ہے خاص؟

آسام، کیرالہ اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات میں اس بار کیا ہے خاص؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 09, 2026 IST

آسام، کیرالہ اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات میں اس بار کیا ہے خاص؟
آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں آج اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ تینوں جگہوں پر ایک ہی مرحلے میں تمام سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔ آسام میں بی جے پی تیسری بار مسلسل حکومت بنانے کی کوشش میں ہے۔وہیں  کیرالہ میں بائیں بازو کی حکومت (LDF) کے سامنے اقتدار بچانے کی چیلنج ہے۔جبکہ  پڈوچیری میں این ڈی اے اور کانگریسڈی ایم کے کے درمیان مقابلہ ہے۔ اسکے علاوہ آل انڈیا این آر کانگریس بھی میدان میں ہے۔
 
آسام  الیکشن  اور اہم امیدوار :
 
یہ ڈی لمیٹیشن کے بعد پہلا الیکشن ہے۔ حلقوں کی نئی حد بندی سے مسلمان اکثریتی سیٹیں تقریباً 35 سے گھٹ کر 22 رہ گئی ہیں۔ بی جے پی تیسری بار حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسئلہ اسامی شناخت، غیر قانونی امیگریشن اور زمین کا تحفظ ہے۔ ہیمنت بسوا سرما کی قیادت میں این ڈی اے "ہٹ ٹرک" کا دعویٰ کر رہا ہے۔
 
آسام کی 126 اسمبلی سیٹوں پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں 1,25,22,593 خواتین، 1,25,31,552 مرد اور 318 ٹرانس جینڈر ووٹر ہیں۔کل 722 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
 
اہم امیدوار:
 
 موجودہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما : جالوکباری سیٹ سے ،صوبائی کانگریس صدر گورو گوگوئی :جوڑہاٹ سیٹ سے،AIUDF سربراہ بدرالدین اجمل  بناکانڈی سیٹ سے  میدان میں ہے۔
 
پچھلے انتخابات کے نتائج (2021):
 
 این ڈی اے: 75 سیٹیں (بی جے پی 60، آسام گن پریشد 9، یو پی پی ایل 6)،کانگریس گٹھ بندھن: 50 سیٹیں (کانگریس 29، AIUDF 16، بی پی ایف 4، سی پی آئی ایم 1)۔اس بار بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ این ڈی اے کے ساتھ ہے، جبکہ AIUDF اکیلے الیکشن لڑ رہی ہے۔
 
 کیرالہ میں 2.71 کروڑ ووٹر، 890 امیدوار:
 
پنرائی ویجن کی قیادت میں LDF تاریخی تیسری بار سرکار بنانے کی کوشش میں ہے (جو کیرالہ میں بہت کم ہوا ہے)۔ 10 سال کی حکومت کے بعد اینٹی انکمبینسی کا چیلنج ہے۔ LDF نے 97 فیصد وعدوں کی تکمیل کا دعویٰ کیا ہے۔ UDF اور بی جے پی کے درمیان تین کونوں والا مقابلہ ہے۔
 
اس بار کیرالہ کی 140 اسمبلی سیٹوں پر 890 امیدوار میدان میں ہیں۔  اکثریت کے لیے 71 سیٹیں درکار ہیں۔اسکے علاوہ کل ووٹر: 2.71 کروڑ   جن میں مرد 1.32 کروڑ، خواتین 1.39 کروڑاور  تھرڈ جینڈر 273 ہیں۔
 
اہم امیدوار:
 
 موجودہ وزیراعلیٰ پنرائی ویجن : دھرمدم سیٹ سے،کانگریس کے وی ڈی ستیشن : پروور سیٹ سے،بی جے پی کے راجیو چندرشیکھر : نیموم سیٹ سے،کے سورندرن : منجیشورم سیٹ سے،سی پی آئی ایم کے جی سدھاکرن : امبلپژا سیٹ سے۔
 
 پڈوچیری:
 
چھوٹا لیکن دلچسپ مقابلہ۔ این ڈی اے دوسری بار اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کانگریس-ڈی ایم کے اتحاد اسے چیلنج کر رہا ہے۔ اداکار وجے کی نئی پارٹی TVK کا پہلا الیکشن ہے، جو مزید دلچسپی بڑھا رہا ہے۔ مکمل ریاست کا درجہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔مجموعی طور پر یہ الیکشن بی جے پی کی توسیع، بائیں بازو کی پائیداری اور علاقائی سیاست کے امتحان کی مانند ہیں۔ ووٹنگ جاری ہے۔
 
پڈوچیری کی 30 اسمبلی سیٹوں میں سے 5 سیٹیں انScheduled Caste کے لیے محفوظ ہیں۔  کل 294 امیدوار ہیں۔  حکومت بنانے کے لیے 16 سیٹیں درکار ہیں۔کل ووٹر: 9.44 لاکھ   جن میں مرد4.43 لاکھ، خواتین 5 لاکھ اور تھرڈ جینڈر 139ہیں۔