Thursday, May 07, 2026 | 19 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • تھیلیسیمیا کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟ جانیے وجوہات، علامات، اور علاج

تھیلیسیمیا کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟ جانیے وجوہات، علامات، اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 06, 2026 IST

تھیلیسیمیا کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟ جانیے  وجوہات، علامات، اور علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج بچوں میں پائے جانے والے خون کے مرض Thalassemia پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ماہر معالج Dr. Srikanth Marda نے ناظرین کو اس بیماری کی وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج کے بارے میں آگاہ کیا۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ڈاکٹر سری کانتھ ماردا کے مطابق تھیلیسیمیا ایک موروثی (genetic) بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری میں جسم مناسب مقدار میں ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا، جس کے باعث خون کی کمی (انیمیا) پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر دونوں والدین اس مرض کے کیریئر ہوں تو بچے میں اس کے شدید ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
 
پروگرام میں بتایا گیا کہ تھیلیسیمیا کی علامات عام طور پر بچپن میں ہی ظاہر ہو جاتی ہیں، جن میں کمزوری، پیلا پن، سست نشوونما، اور بار بار بخار شامل ہیں۔ ایسے بچوں کو اکثر خون کی منتقلی (Blood Transfusion) کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ڈاکٹر ماردا نے زور دیا کہ اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو مریض کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
 
تشخیص کے لیے خون کے مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جیسے CBC اور ہیموگلوبن الیکٹروفوریسس۔ انہوں نے کہا کہ شادی سے قبل اسکریننگ اور Prenatal Testing انتہائی ضروری ہے تاکہ اس بیماری کی روک تھام کی جا سکے۔ خاص طور پر ان خاندانوں میں جہاں پہلے سے تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہوں۔
 
علاج کے حوالے سے بتایا گیا کہ تھیلیسیمیا کا مکمل علاج Bone Marrow Transplant کے ذریعے ممکن ہے، تاہم یہ ہر مریض کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہوتا۔ زیادہ تر مریضوں کو زندگی بھر باقاعدہ خون کی منتقلی اور Iron Chelation Therapy کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم میں آئرن کی زیادتی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
 
پروگرام کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ آگاہی، جلد تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے تھیلیسیمیا کے مریض بھی ایک بہتر اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے باقاعدہ معائنہ کروائیں۔