بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد، طارق رحمن اب ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے کے قریب ہیں۔ ان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے 300 میں سے 209 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔وہ بنگلہ دیش کے سابق صدر اور BNP کے بانی ضیاء الرحمن اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں۔
انہوں نے بی اے ایف شاہین کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔وہ 1980 کی دہائی سے سیاست میں سرگرم ہوئے اور 1988 میں باضابطہ طور پر BNP کی گابتلی یونٹ کے رکن بنے۔
طارق رحمان نے آہستہ آہستہ پارٹی میں اپنی گرفت مضبوط کی:
1991 کے انتخابات میں جب ان کی والدہ خالدہ ضیاء نے 5 نشستوں پر انتخاب لڑا، تو اس کی پوری ذمہ داری طارق نے سنبھالی۔ 2002 میں پارٹی کے سینئر جوائنٹ جنرل سیکرٹری بنے۔ 2009 سے 2016 تک وہ سینئر نائب صدر رہے اور 2018 سے وہ پارٹی کے کارگزار صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
تنازعات اور قانونی مشکلات:
2001 سے 2006 کے دوران، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر بدعنوانی کے سنگین الزامات لگے۔ ان کا دفتر 'ہوا بھون' مبینہ طور پر طاقت کا مرکز بن گیا تھا۔2004 میں شیخ حسینہ کی ریلی پر ہونے والے گرینیڈ حملے کے کیس میں طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
2007 میں بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت کے دوران، طارق رحمان 18 ماہ جیل میں رہے۔ستمبر 2008 میں وہ علاج کی غرض سے لندن چلے گئے اور وہاں سیاسی پناہ لے لی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 17 سال لندن میں گزارے، جہاں سے وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پارٹی کے معاملات چلاتے رہے۔
وطن واپسی اور حالیہ کامیابی:
شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے اور طلبہ تحریک کے بعد بدلتے ہوئے حالات میں طارق رحمان گزشتہ سال 26 دسمبر کو ڈھاکہ واپس پہنچے۔ ان کی واپسی کے محض چار دن بعد ان کی والدہ خالدہ ضیاء کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد انہیں باضابطہ طور پر BNP کا صدر منتخب کیا گیا۔ حالیہ انتخابات ان کی قیادت میں لڑے گئے جس میں انہیں تاریخی کامیابی ملی ہے۔