منصف ٹی وی کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج Other Sleep Disorders یعنی نیند کی دیگر پیچیدگیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر معروف ماہر ڈاکٹر ہرشنی ایرابلی نے ناظرین کو اہم طبی معلومات فراہم کیں۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر نے بتایا کہ نیند کی بیماریاں صرف بے خوابی (Insomnia) تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس میں متعدد دیگر عوارض بھی شامل ہیں، جیسے نارکولیپسی (Narcolepsy)، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم (Restless Legs Syndrome)، پیراسمونیا (Parasomnia)، اور سرکیڈین ردھم ڈس آرڈر (Circadian Rhythm Disorder) وغیرہ۔ ان عوارض کے باعث انسان کی روزمرہ زندگی، ذہنی صحت اور جسمانی کارکردگی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ کیا ہیں اور کیسے ہوتے ہیں؟
ماہر کے مطابق نیند کے یہ مسائل عموماً دماغ کے نیند کو کنٹرول کرنے والے نظام میں خرابی، ذہنی دباؤ، طرزِ زندگی کی بے ترتیبی، موروثی عوامل یا بعض اوقات دیگر جسمانی بیماریوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نارکولیپسی میں مریض کو دن کے وقت اچانک نیند کے شدید دورے پڑتے ہیں، جبکہ ریسٹ لیس لیگ سنڈروم میں ٹانگوں میں بے چینی اور حرکت دینے کی شدید خواہش محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر رات کے وقت۔
پیراسمونیا میں نیند کے دوران غیر معمولی حرکات یا رویے دیکھے جاتے ہیں، جیسے نیند میں چلنا یا ڈراؤنے خواب آنا۔ اسی طرح سرکیڈین ردھم ڈس آرڈر میں انسان کے سونے اور جاگنے کے اوقات قدرتی حیاتیاتی گھڑی سے ہم آہنگ نہیں رہتے۔
علامات کیا ہو سکتی ہیں؟
مسلسل تھکن، توجہ میں کمی، چڑچڑاپن، سر درد، دن میں نیند کا غلبہ، اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی نمایاں علامات ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ مسائل دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور ڈپریشن کے خطرات میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر ایرابیلی کے مطابق علاج کا انحصار مرض کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ کئی مریضوں کو لائف اسٹائل میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کرنا، موبائل اور اسکرین کا کم استعمال، کیفین سے پرہیز، اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا۔ کچھ مریضوں کے لیے سلیپ اسٹڈی (Sleep Study) کے ذریعے مکمل معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ درست تشخیص ممکن ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند انسانی صحت کا بنیادی ستون ہے، لہٰذا اگر نیند سے متعلق کوئی بھی مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے ان بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور صحت مند زندگی کی طرف واپسی ممکن ہے۔