منصف ٹی وی کے مقبول خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج آٹزم جیسے اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام میں ماہرِ امراضِ اطفال Dr. Pappula Sindhura نے آٹزم کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں ۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر سندھورا کے مطابق آٹزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل ڈس آرڈر ہے جو بچوں کی دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے باعث بچے کی سماجی روابط قائم کرنے، بات چیت کرنے اور رویوں میں توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ عام طور پر اس کی علامات بچپن کے ابتدائی سالوں، خاص طور پر 2 سے 3 سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آٹزم کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس میں جینیاتی عوامل، دماغی ساخت میں فرق اور ماحولیاتی اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی ایک وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری نہیں بلکہ مختلف عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر بچے میں بولنے میں تاخیر، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا، یا غیر معمولی رویے جیسے ایک ہی حرکت کو بار بار دہرانا نظر آئے تو فوری ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر سندھورا نے واضح کیا کہ آٹزم کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، لیکن بروقت تشخیص اور مناسب تھراپی کے ذریعے بچوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں اسپیچ تھراپی، بیہیویئرل تھراپی، آکوپیشنل تھراپی اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں ادویات بھی دی جاتی ہیں تاکہ مخصوص علامات جیسے بے چینی یا توجہ کی کمی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
پروگرام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ معاشرے میں آٹزم سے متعلق آگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی توجہ، محبت اور قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکیں۔ والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر ان بچوں کے لیے ایک معاون ماحول فراہم کریں تو یہ بچے بھی ایک باوقار زندگی گزار سکتے ہیں۔