Saturday, April 18, 2026 | 29 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • خواتین ریزرویشن قانون نافذ ، پارلیمنٹ میں بحث کے درمیان حکومت نےجاری کیا نوٹیفکیشن

خواتین ریزرویشن قانون نافذ ، پارلیمنٹ میں بحث کے درمیان حکومت نےجاری کیا نوٹیفکیشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 17, 2026 IST

خواتین ریزرویشن قانون نافذ ، پارلیمنٹ میں بحث کے درمیان حکومت نےجاری کیا نوٹیفکیشن
خواتین کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینے والا خواتین ریزرویشن ایکٹ، 2023 نافذ ہو گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ قانون کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں یہ اطلاع دی گئی۔تاہم حکام کے مطابق اس قانون کا فوری طور پر موجودہ پارلیمان یا اسمبلیوں میں نفاذ ممکن نہیں ہوگا۔یہ قانون، جسے سال 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیئم کے نام سے منظور کیا تھا۔اس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کرنا ہے۔تاہم اس ریزرویشن کا عملی نفاذ نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندی کے عمل سے مشروط ہے۔جس کے بعد توقع ہے کہ یہ نظام سال 2029 کے بعد مؤثر ہوگا۔
 
ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے منظوری دی تھی:
  
ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے 'ناری شکتی وندن ایکٹ' منظور کیا تھا، جسے خواتین ریزرویشن قانون کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے قانون ساز اداروں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کی سمت میں اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
 
2029 تک ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل سکے گا:
  
تاہم، 2023 کے اس قانون کے مطابق ریزرویشن کا فائدہ 2029 سے پہلے نہیں مل سکے گا، کیونکہ اسے 2027 کی مردم شماری کے بعد ہونے والی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل سے جوڑا گیا ہے۔ فی الحال لوک سبھا میں جن تین بلوں پر بحث چل رہی ہے، ان کا مقصد خواتین ریزرویشن کو 2029 سے نافذ کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، قانون نافذ ہو جانے کے باوجود موجودہ لوک سبھا میں یہ ریزرویشن لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے لیے اگلی مردم شماری کی بنیاد پر حدبندی کا عمل مکمل ہونا ضروری ہے۔
 
پارلیمنٹ میں ان ترمیمی بلوں پر بحث جاری:
  
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں آئین (131ویں ترمیم) بل 2026، حدبندی ترمیم بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین ترمیم بل 2026 پر بحث چل رہی ہے۔ ان بلوں میں لوک سبھا کی نشستیں بڑھا کر 850 کرنے کا تجویز ہے۔ حدبندی بل کے تحت آبادی کی تعریف میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنایا جا سکے۔
 
خواتین ریزرویشن بل سے متعلق ترامیم پر بحث کے دوران جمعرات کو وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں کہا کہ حدبندی میں کسی بھی ریاست کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے اور وعدہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ہم بھرم میں نہ رہیں، ہم غرور میں نہ رہیں۔ یہاں میں اور تم کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ ہم ہم ملک کی ناری شکتی کو کچھ دے رہے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ اور ہم نے کئی دہائیوں سے انہیں روکا ہے۔ آج اس کا کفارہ ادا کر کے اس جرم سے نجات پانے کا موقع ہے۔