Tuesday, October 20, 2026 | 08 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • یمن میں حوثی باغیوں کا سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حملہ، 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

یمن میں حوثی باغیوں کا سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حملہ، 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 20 Oct 2026

یمن میں حوثی باغیوں کا سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حملہ، 53 افراد ہلاک، 200 زخمی
یمن کے صوبہ شبوہ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق، حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں زخمی افراد زمین پر پڑے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ کئی لاشیں خون میں لت پت نظر آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، حوثی گروپ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان ستمبر سے کشیدگی جاری ہے۔ اس حکومت کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم سمندری گزرگاہ باب المندب کے قریب علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کی۔
 
مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حوثی باغیوں نے سکیورٹی فورسز کی تربیتی مشق کے دوران تین بیلسٹک میزائل داغے۔ اس حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ صوبہ شبوہ یمن کے جنوبی وسطی ساحلی علاقے میں واقع ہے اور خلیج عدن کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ اسی صوبے میں بلحاف لیکویفائیڈ نیچرل گیس (LNG) پلانٹ موجود ہے، جسے یمن کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری قرار دیا جاتا ہے۔
 
یمنی فوج نے اس ماہ ان علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا ہے جو اب بھی حوثی باغیوں کے قبضے میں ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد باب المندب کے قریب علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے تعز شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ یہ شہر یمن کے جنوبی پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور حوثی مخالف قوتوں کے آخری بڑے شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
 
یمن کا تنازع اب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی وسیع تر کشمکش سے بھی جڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ سعودی عرب دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں سرفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں سے خطے کی سلامتی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
 
یمن میں جنگ کا آغاز 2014 میں ہوا، جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد حکومت کو جنوب کی جانب منتقل ہونا پڑا۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مداخلت ہوئی، جس کے نتیجے میں جنگ ایک طویل تعطل کا شکار ہو گئی۔ 2022 میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا، جو کافی عرصے تک کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ رہا۔ تاہم، تازہ حملوں نے ایک بار پھر صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ یمن پہلے ہی دنیا کے شدید ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل لڑائی، جانی نقصان اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث وہاں انسانی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔