انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی کے دوسرے سال کے ایک طالب علم کی جمعہ 18 ستمبر کی شام موت ہو گئی۔ بتایا گیا ہے کہ طالب علم کو امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق، انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے طالب علم ساحل واکوڈے نے امتحان کے دوران جوابات حاصل کرنے کے لیے امتحانی پرچہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کیا تھا۔
آئی آئی ٹی بمبئی کے حکام کا کہنا ہے کہ طالب علم کے خلاف اس معاملے میں کوئی تادیبی کاروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ انسٹرکٹر اور شعبے کے سربراہ نے بھی اس سے بات کی، اسے معاملے کی وضاحت دی اور یقین دلایا کہ اس واقعے کا اس کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ بات چیت کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد میں اسے مردہ پایا گیا۔ پولیس واقعے کی وجوہات اور حالات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
آئی آئی ٹی بمبئی نے اپنے بیان میں طالب علم کی موت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ اس واقعے سے متاثرہ طالب علم کے دوستوں، ہم جماعتوں اور اساتذہ کو ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔
آئی آئی ٹی بمبئی میں خودکشی کا تیسرا واقعہ
آئی آئی ٹی بمبئی کیمپس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران طالب علم کی خودکشی کا یہ تیسرا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ فروری میں دوسرے سال کے ایک طالب علم نے ہاسٹل میں خودکشی کی تھی، جبکہ جولائی میں بی ٹیک سکنڈ ایئر کے 20 سالہ طالب علم کی بھی خودکشی سے موت ہوئی تھی۔
طالب علم کی موت کے بعد احتجاج
ساحل واکوڈے کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد آئی آئی ٹی بمبئی کے 'Powai' کیمپس میں طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاجی طلبہ کا الزام ہے کہ ادارہ اس واقعے سے متعلق تمام معلومات سامنے نہیں لا رہا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ امتحان میں نقل کے الزام کے بعد طالب علم کو ایک سال کے لیے معطل کیے جانے کا خدشہ تھا۔ ان کے مطابق، معطل ہونےکی صورت میں اسے ہاسٹل چھوڑ کر کیمپس سے باہر رہنا پڑ سکتا تھا، جس سے اس کی تعلیم بھی متاثر ہوتی۔
طلبہ نے الزام لگایا کہ تادیبی کاروائی کے خوف اور دباؤ نے ممکنہ طور پر اس واقعے میں کردار ادا ہو ۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب آئی آئی ٹی بمبئی کا کہنا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی شروع نہیں کی گئی تھی اور اسے یقین دلایا گیا تھا کہ اس واقعے کا اس کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
طلبہ نے انتظامیہ سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شامل ایک طالب علم نے کہا کہ ان کا مقصد انتظامیہ سے واقعے پر جواب، شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرنا ہے۔ طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے دوران پولیس نے کیمپس میں سیکیورٹی بڑھا دی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ طالب علم کی موت کے بعد کچھ طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا اور آئی آئی ٹی انتظامیہ ان سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ معاملے کا حل نکالا جا سکے۔







