سانس لینے میں دشواری، رات کے وقت بار بار نیند کا ٹوٹنا، خراٹے لینا اور دن بھر تھکن محسوس کرنا ایسی علامات ہیں جنہیں اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تاہم، یہ مسائل بعض اوقات سانس کی بیماریوں یا نیند سے متعلق سنگین عوارض کی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں۔ بروقت ان علامات پر توجہ دینا اور ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر صحت کے لیے ضروری ہے۔
ان ہی اہم موضوعات پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا موضوع ’’سانس لینے میں دشواری اور نیند کی خرابیاں: کیا ہم خطرے کی علامات کو نظر انداز کر رہے ہیں؟‘‘ تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایم ڈی عبداللہ سلیم، کنسلٹنٹ انٹروینشنل پلمونولوجسٹ اور سلیپ میڈیسن اسپیشلسٹ، کیئر ہاسپٹلس، چادرگھاٹ روڈ، ملک پیٹ، حیدرآباد نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
سانس کی تکالیف کو معمولی نہ سمجھیں
سانس لینے میں دشواری کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہے، جن میں دمہ، پھیپھڑوں کی بیماریوں، الرجی اور سانس کی نالیوں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ بعض افراد کو جسمانی سرگرمی کے دوران سانس پھولنے کی شکایت ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگوں کو آرام کی حالت میں بھی یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔
ایسی علامات کی مسلسل موجودگی کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً اگر سانس کی تکلیف بڑھ رہی ہو یا روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہوں تو طبی معائنہ کروانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
نیند کی خرابی بھی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی
پروگرام میں نیند سے متعلق مسائل کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ نیند پوری ہونے کے باوجود تھکن محسوس کرنا، دن کے وقت غیر معمولی غنودگی، زور دار خراٹے اور سوتے ہوئے سانس رکنے کی شکایت سلیپ ایپنیا کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔سلیپ ایپنیا ایسی کیفیت ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکنے یا کم ہونے لگتا ہے۔ اس کی تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں نیند کا معیار متاثر ہو سکتا ہے اور بعض افراد میں بلند فشارِ خون سمیت دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بروقت تشخیص اور علاج ضروری
ماہرین کے مطابق بہتر صحت کے لیے مناسب نیند، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی اہم ہیں۔ تاہم، اگر سانس لینے میں دشواری، مسلسل خراٹے یا نیند کے دوران سانس رکنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ضرورت کے مطابق نیند کا ٹیسٹ یا دیگر طبی جانچ بھی تجویز کی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو اچانک یا شدید سانس لینے میں دشواری ہو، سینے میں درد ہو یا ہونٹ نیلے پڑنے لگیں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
منصف ٹی وی کا پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ صحت سے متعلق اہم موضوعات پر عوام میں شعور بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ لوگ بیماریوں کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں اور بروقت طبی رہنمائی حاصل کریں۔ قارئین آپ ڈاکٹر محمد عبداللہ سلیم ، کنسلٹنٹ انٹروینشنل پلمونولوجسٹ اور سلیپ میڈیسن، کیئر ہاسپٹلز، ملک پیٹ، حیدرآباد ،کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔







