چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے یہ فیصلہ ان کے خلاف انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ اور کارکنوں کی جانب سے جاری احتجاج کے پیش نظر کیا ہے۔ گیانیش کمار کو پہلے ہی زیڈ پلس سیکیورٹی حاصل ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کی حفاظت کے لیے اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق گیانیش کمار کی دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے آگرہ میں ان کے آبائی گھر پر بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
حساس مقامات پر نیم فوجی دستوں کی تعیناتی بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلی جنس اطلاعات اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری احتجاج کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔زیڈ پلس سیکیورٹی ملک میں اعلیٰ ترین حفاظتی زمروں میں شامل ہے۔ اس زمرے میں شامل افراد کی رہائش گاہ اور نقل و حرکت کے دوران بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات رہتے ہیں۔
الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل یعنی SIR کو لے کر اپوزیشن پہلے ہی گیانیش کمار کے خلاف سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ 23 ستمبر کو ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے بعد اپوزیشن نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تین میں سے دو الیکشن کمشنروں نے SIR کے عمل کے دوران متعدد مواقع پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
اپوزیشن جماعتیں گیانیش کمار کے استعفے اور ان کے اقدامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی SIR کے عمل کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے اقدامات سے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچا۔ تاہم یہ سیاسی الزامات ہیں اور ان کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں یا قانونی عمل سے ہی ہوگی۔
گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے دہلی میں مارچ کیا تھا، جس کے بعد کئی رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لیا۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے جنتر منتر پر بھی احتجاج کی کوشش کی، جہاں پولیس نے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور کارکنوں کو حراست میں لیا۔







