کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کو مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 10 اکتوبر کے احتجاج پر پولیس کریک ڈاؤن کا مقصد "صرف ایک آدمی کو بچانا تھا"۔ وہ ہے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، دپکے نے کہا: "جب سے پول پینل کے اندر اختلافات کا دعویٰ کرنے والی میڈیا رپورٹ شائع ہوئی ہے، حکومت گیانیش کمار کو بچانے کے لیے اپنا سارا نظام اور مشینری استعمال کر رہی ہے۔ تمام طلبہ تنظیمیں اور نوجوان پچھلے کچھ دنوں سے دہلی کی سڑکوں پر لڑ رہے ہیں۔
انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے، صرف ایک آدمی، گیانیش کمار کو بچانے کے لیے"۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اپوزیشن لیڈروں کو بھی "بخش نہیں دیا گیا"۔ انہوں نے مزید کہا، "یہاں تک کہ ایل او پی (راہل گاندھی)، سابق وزرائے اعلیٰ ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پنارائی وجین سبھی کو صرف گیانیش کمار کی حفاظت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔" 10 اکتوبر کو CJP کی زیرقیادت مظاہروں پر کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈپکے نے کہا: "شاید یہ ملک میں پہلی بار تھا کہ ریلوے کو بند کیا گیا، دوبارہ صرف گیانیش کمار کے لیے۔
یہ لوگ ریلوے بند کرنے سے مطمئن نہیں، انہوں نے میٹرو کو بند کردیا اور دہلی بھر کے میٹروا سٹیشنوں کو بند کر دیا۔ کس کے لیے؟ انہوں نے جموں و کشمیر سے فوج کو طلب کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سب کچھ نہ تھا تو حکومت اب اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ CJP رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش رنکا کی عدالتی تحویل کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا: "آپ نے ترنگا لہرانے کو قانون کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔ صرف گیانیش کمار کے لیے؟ آپ نے دہلی کو ٹھپ کر دیا ہے، شہر کو ایک سرحد میں تبدیل کر دیا ہے، جیسے ہندوستان-پاکستان کی سرحد ہو۔
جمعہ کو لہرادو ترنگا پروگرام
گیانیش اگر الیکشن جیتنے میں بی جے پی کی مدد نہیں کر رہے ہیں تو نریندر مودی انہیں اتنا تحفظ کیوں فراہم کر رہے ہیں؟ سی جے پی نے مزید ریمارکس کئے کہ 'ایک قوم، ایک الیکشن' صرف نعرہ ہے، اصل نیت ایک قوم، ایک جماعت ہے، اگر آپ طلبہ رہنماؤں، کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو اس طرح نظر بند کرنا چاہتے ہیں تو سرکاری ایمرجنسی کا اعلان کریں، آپ کو کس بات کا ڈر ہے؟ ڈپکے نے 'تیرنگا مارچ ' کے لیے اپنی کال کا اعادہ کیا جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کل شام 5 بجے نئی دہلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جمع ہوں، اپنی پارٹی کے شریک کنوینر سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں ترنگا لہرائیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے اراکین، مزدور اور کسان یونینوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے اپنے سیاسی رجحانات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اجتماع میں شامل ہوں۔ "ہمیں اپنی جمہوریت کو بچانے کے لیے اکٹھا ہونا ہوگا۔ اگر ہمارے ووٹ کی حفاظت ہوگی تو جمہوریت بچ سکے گی۔ آشوتوش اور سورو کو ترنگا لہرانے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ قومی پرچم لہرانا جرم نہیں ہوسکتا۔
ترنگے سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہے، اور گیانیش کمار یقیناً نہیں ہے،" ابھیجیت ڈپکے نے زور دے کر کہا۔ پریس کانفرنس کو AISA کی قومی صدر نیہا بورا، JNUSU کی سابق صدر ایشے گھوش، سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن، اداکار پرکاش راج اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔






