دہرادون میں کانگریس کارکنوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں اور ووٹنگ کے عمل میں مبینہ خامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انتخابی نظام میں شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں کانگریس کارکن سیکریٹریٹ کے قریب جمع ہوئے اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں اور ووٹنگ کے عمل میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہیں کسی ووٹر کے حق رائے دہی پر اثر تو نہیں پڑا۔
کانگریس کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق بعض معاملات میں ایسی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جو ووٹروں کے حقوق اور انتخابی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ جمہوری نظام میں انتخابات کی شفافیت انتہائی اہم ہے اور ہر ووٹر کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا یکساں موقع ملنا چاہیے۔
مظاہرین نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور ووٹنگ کے عمل سے متعلق شکایات کی مکمل جانچ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سطح پر بھی بے ضابطگی یا غفلت پائی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے اور ضروری کارروائی کی جانی چاہیے۔احتجاج کے پیش نظر دہرادون کے ریاستی سیکریٹریٹ کے اطراف سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو سیکریٹریٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے بیری کیڈنگ کی تھی۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔
کانگریس کارکنوں کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج انتخابی نظام کو مزید شفاف بنانے اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل سے متعلق تمام شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق یہ الزامات کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں۔ ان الزامات کی حتمی تصدیق یا تردید متعلقہ انتخابی حکام کی جانب سے کی جانی باقی ہے۔







